حج سعودی عرب نے مہنگا کیا: پاکستان
پاکستان میں پارلیمنٹ کو حج اخراجات میں اضافے کی وجہ سعودی عرب کی حکومت کی پالیسی بتائی گئی ہے۔
جمعے کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور کے اجلاس میں حج مہنگا ہونے کی وجوہات پر غور کیا گیا جہاں پارلیمنٹ کے ارکان کو بتایا گیا کہ سعودی حکومت نے پہلی بار ویزہ فیس تین سو جبکہ 110 ریال انشورنس فیس لگائی ہے۔
مذہبی امور کی وزارت کے سیکریٹری نے بتایا کہ اگر یہ رقم نکال دی جائے تو حج اخراجات تقریبا گزشتہ سال والی رقم پر ہی آجائیں گے۔
مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین مولانا اسعد محمود نے پوچھا کہ حجاج کو اوپن سکائی پالیسی اور بحری جہازوں سے کیوں نہیں لے جایا جاسکتا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق نے بتایا کہ سعودی حکومت سے بات ہوئی ہے وہ بحری جہاز کی اجازت دے سکتی ہے مگر سڑک کے ذریعے نہیں۔
”سعودی حکومت عمرہ ویزہ آن آرائیول انہی کو دیتی ہے جن کا امریکہ یورپ کا ویزہ لگا ہو۔“
وفاقی وزیر مذہبی امور نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور کے اجلاس میں حج فارم میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کی بھی وضاحت کی۔
ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کا معاملہ چیئرمین کمیٹی مولانا اسعد محمود نے اٹھایا۔
کمیٹی کو سیکریٹری نے بتایا کہ ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ چودہ صفحات کے فارم کو دو صفحات پر کرتے ہوئے ایک صفحے پر ختم نبوت کا حلف نامہ رکھا گیا، سوشل میڈیا کے ردعمل پر ڈیٹا فارم اور دوسرے فارم میں بھی ختم نبوت فارم ڈال دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چالیس ہزار حج فارم جمع ہوچکے ہیں سب میں ختم نبوت کا حلف نامہ موجود ہے۔ جس ایک صفحے پر سے ختم نبوت حلف نامہ ہٹایا گیا تھا وہ بھی بحال کردیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ ”میں قائمہ کمیٹی میں واضح کرنا چاہتا ہوں پہلے صفحے پر سے بھی ختم نبوت کا حلف نامہ نکالتے ہوئے مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ میں نے ساری زندگی ختم نبوت کی وکالت کی میری ہی وزارت نے میرے علم میں لائے بغیر ختم نبوت کا حلف نامہ نکال دیا۔“
وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ ایشو کھڑا ہونے پر مجھے حج فارم کے اختصار کی تکنیکی وجوہات کا بتایا گیا۔ اب ختم نبوت کا حلف نامہ دونوں فارموں پر موجود ہے۔

