عورت مارچ سپریم کورٹ میں چیلنج
پاکستان کی سپریم کورٹ میں عورت مارچ کو روکنے کیلئے آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ تحقیقات کروائی جائیں عورت مارچ کیلئے فنڈز کہاں سے آتے ہیں؟ کہیں عورت مارچ کیلئے غیر ملکی فنڈنگ تو نہیں ہو رہی؟ عورت مارچ کے نام پر غیر ملکی پیسے کا استعمال تو نہیں ہورہا؟ کہیں غیر ملکی ایجنسیاں تو ملوث نہیں؟
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ میں پیس اینڈ جسٹس آرگنائیزیشن کی طرف سے ایڈووکیٹ چوہدری عبدالرحمان ناصر کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ہے۔درخواست میں وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیاہے،جبکہ عورت مارچ میں لگائے گئے میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ عورت مارچ میں بے ہودہ اور فحش پلے کارڈ لائے جاتے ہیں، عورت مارچ کے نام پر بدصورت مہم کے زریعے نوجوان نسل پر برا اثر پڑ رہا ہے،عورت مارچ میں آئین پاکستان کی اسلامی شقوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
درخواست میں تعزیرات پاکستان کی 295 اے کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جان بوجھ کر مذہبی احساسات مجروح کرنا، مذہب کی توہین کرنے کی کم از کم سزا دس سال قید اور جرمانہ ہے، عورت مارچ کے نام پر گھناؤنی مہم پر قابو نہ پایا گیا تو اسلامی نظریات اور اقدار کو نقصان پہنچے گا۔
عورت مارچ کے خلاف آئینی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انکوائری کروائی جائے عورت مارچ کیلئے این جی اوزسے فنڈنگ تو نہیں مل رہی؟کہیں عورت مارچ کیلئے غیر ملکی فنڈنگ تو نہیں آرہی سپریم کورٹ انکوائری کروائے، سپریم کورٹ انکوائری میں یہ بھی پتہ چلائے کہیں عورت مارچ کے نام پر غیر ملکی پیسہ یا غیر ملکی ایجنسیاں تو ملوث نہیں، عورت مارچ فوری روکا جائے۔


