پاکستان24 متفرق خبریں

پہلے قیدیوں کی رہائی پھر افغان حکومت سے مذاکرات: طالبان

مارچ 2, 2020

پہلے قیدیوں کی رہائی پھر افغان حکومت سے مذاکرات: طالبان

امریکہ سے جنگ بندی کا معاہدہ کرنے والے جنگجو افغان طالبان نے اپنے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا نہ کرنے کی صورت میں اشرف غنی حکومت اور دیگر افغان شراکت داروں سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’جب تک ہمارے پانچ ہزار قیدی رہا نہیں کیے جاتے افغان حکومت اور دیگر دھڑوں سے مذاکرات نہیں کریں گے۔‘

سنیچر کو قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات پر دستخط کے بعد اتوار کو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا اور یہ کہ قیدیوں کی رہائی ان کا اختیار ہے نہ کی امریکہ کا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ بین الافغان مذاکرات کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں اور اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر ان پانچ ہزار قیدی رہا نہیں کیے جائیں گے تو افغانوں کے آپس کے مذاکرات میں وہ حصہ نہیں لیں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پانچ ہزار قیدیوں کی فہرست میں زیادہ تر وہ قیدی شامل ہیں جنہیں امریکی فوج نے پکڑا اور افغان جیلوں میں رکھا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ تشدد میں کمی لانے کا وہ معاہدہ اب باضابطہ طور پر ختم ہوگیا ہے جو امن معاہدے کی بنیاد قرار پایا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے