سنگین الزامات لگائے اور پھر رہا کر دیا: عدالت
’کیا غیر فوجی (سویلین) یا ریٹائرڈ آفیسر کا بھی کورٹ مارشل ہو سکتا ہے؟‘ سپریم کورٹ نے اس قانونی نکتے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا ہے کہ کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی بھی شہری کو اٹھا لیا جاتا ہے؟۔
جہانزیب عباسی ۔ صحافی / اسلام آباد
بدھ کو سپریم کورٹ میں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی رہائی کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومتی اپیل پر سماعت ہوئی۔
جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ کرنل انعام ریٹائرڈ ہیں ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کرنل انعام کو رہا کر دیا ہے لیکن وہ زیر تفتیش ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کرنل انعام پر فوج نے سنگین الزامات لگائے پھر خود ہی رہا کر دیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کرنل انعام کی رہائی کی وجوہات الگ ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ وجوہات کوئی بھی ہوں بات سنگین الزامات کی ہے۔ ’ایک دن عدالت کو بتایا کہ نہایت سنگین الزامات ہیں اور اگلے دن خود ہی چھوڑ دیا۔ الزامات کو ثابت بھی کرنا ہوتا ہے۔‘
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، سویلین کے کورٹ مارشل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی، کرنل انعام کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا، سول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل فوجی افسران کا بھی نہیں ہو سکتا، سول نوعیت کا جرم عام آدمی کرے یا فوجی،اس کا ٹرائل فوجداری عدالت کرے گی۔
جسٹس منیب اختر نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بفیر سول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، فوجداری عدالت کو اختیار ہے کہ سول جرم میں جاری کورٹ مارشل کو روک سکے۔
جسٹس مشیر عالم نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی بھی شہری کو اٹھا لیا جاتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کمانڈنگ آفیسر نے دلیل کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کورٹ مارشل ہونا ہے اور کیس عدالت میں جانا ہے۔
ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع بریگیڈیئر فلک ناز کو عدالت نے بات کرنے سے روک دیا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’آپ کی نمائندگی کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل موجود ہیں، اجازت کے بغیر آپ عدالت کو مخاطب نہیں کر سکتے، بات کرنے سے پہلے عدالت اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے اجازت لیں، عدالت خود آپ سے کچھ پوچھے تو ہی آپ جواب دے سکتے ہیں، آپ کا کام ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی معاونت کرنا ہے۔‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ چکا ہے، جو نکات عدالت نے اٹھائے ہیں ان کے جواب کے لیے وقت درکار ہے، متعلقہ حکام سے ہدایات لے کر عدالتی سوالات کے جواب دیں گے۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے تین ہفتے کا وقت دے دیا۔
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 94,95 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 پر تیاری کرکے آئیں، سویلین کے کورٹ مارشل سے متعلق نکتے پر بھی معاونت کریں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ لاپتہ افراد کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو گزشتہ سال دسمبر کے وسط میں آدھی رات کے وقت ان کے گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
دو ہفتے بعد لاہور ہائیکورٹ کو وزارت دفاع کے حکام نے بتایا تھا کہ کرنل انعام ان کی تحویل میں ہیں۔
ہائیکورٹ نے پانچ سماعتوں کے بعد مطمئن نہ کیے جانے پر کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالتی حکم پر عمل کے بجائے فیصلے کے خلاف حکومت اور وزارت دفاع نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

