جماعت اسلامی کا ’عورت مارچ‘ کے خلاف مارچ
پاکستان میں مذہبی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
جمعرات کو جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر برائی کرنے والے اپنی برائی سے باز نہیں آسکتے تو اچھائی والے گھر کیوں بیٹھیں۔ برگر اور موم بتی مافیا اسلام اور پاکستان کا کلچر کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔“
ان کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل میں بچوں سے زیادتی کی پھانسی کے لئے ترامیم لائیں گے۔
آٹھ مارچ کوعالمی یوم خواتین پر جماعت اسلامی شعبہ خواتین نے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ”میرا جسم میری مرضی والا برگر و موم بتی مافیا اسلام اور پاکستان کی ثقافت تباہ کرنا چاہتا ہے۔“
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ریاست مدینہ والی تبدیلی حکومت نے عجیب تبدیلی لائی ہے بچوں سے کوئی زیادتی اور قتل کرے گا تو اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی ہم نے اس قانون مخالفت کی ہے اور ترمیم لائیں گے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عورت کے حقوق کے لئے قانون سازی کی جائے کسی رکن اسمبلی کو اس وقت تک الیکشن نہ لڑنے دیا جائے جب تک وہ اپنی بہن کو جائیداد میں حصہ دینے کا سرٹیفیکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہ کرادے۔
”کاروکاری کا خاتمہ، قرآن سے شادی کی ممانعت، الگ تعلیمی ادارے و ٹرانسپورٹ جیسے حقوق خواتین کو دیئے جائیں۔“

