سارے ادارے چور، کوئی کام نہیں کر رہا: چیف جسٹس
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ کراچی میں عمارت گری 14 لوگ مرے، سب آرام سے سورہے ہیں۔
جمعے کو عدالت عظمی کی کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت کے وکیل سے کہا کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی؟ جوں رینگنا سمجھتے ہیں آپ؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں واقعہ ہُوا تھا وزیراعظم ایک ہفتے نہیں سوئی تھی، سارے ادارے چور ہیں کوئی کام نہیں کر رہا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے پلاٹس پر اونچی اونچی عمارتیں بنادیتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ حکومت نے کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی کی ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ سب دکھاوے کے لئے کاروائی کی گئی ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جب تک بڑا ڈنڈا نہیں آتا کوئی کام نہیں کرتا، کراچی میں کچھ ہُوئے بغیر لوگ مررہے ہیں۔
چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے کہا کہ شہر کے بارے میں آپ کو کچھ معلوم ہے یا نہیں؟ جو منصوبے بنارہے ہیں 5 سال بعد سب گرا دیں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سب فلائی اوورز گر جائیں گے، کیماڑی کا برج بھی گرنے والا ہے۔ شہیدِ ملت روڈ تباہ، ناظم آباد کا حُلیہ بگاڑ دیا۔ بسیں کیوں نہیں چلاتے ابھی چلانے میں کیا مسئلہ ہے؟ 1955 والی بسیں کراچی میں چل رہی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سارے پاکستان کی کچرا بسیں کراچی میں چل رہی ہیں، جنگ عظیم اول کے زمانے کی بسیں کراچی میں چل رہی ہیں۔
سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کک دو سال میں کام کرکے دکھائیں گے۔

