عورت مارچ کے نام پر گمراہی کیوں؟
پاکستان کے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عورت مارچ کے نام پر چند افراد قوم کی خواتین کو گمراہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”باپ میری طاقت ہے، میرا بھائی میری عزت کا محافظ بنتا ہے، شوہر سرپرست ہوتا ہے اور بیٹا بڑھاپے کا سہارا بنتا ہے۔ اس طرح کے نعروں کے ساتھ خود کو کمزور بناکر کون سی طاقت چاہیے جس کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے۔“
اسلام آباد میں معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ”ہماری کچھ بہنیں اور بیٹیاں عورت مارچ کے نام پر زیربحث آئی ہوئی ہیں، پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن ہماری بہنیں اور بیٹیاں خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر جو نعرے استعمال کر رہی ہیں وہ کس معاشرے کی عکاسی کر رہی ہیں؟۔“
معاون خصوصی نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی بنیاد مذہبی ثقافتی اقدار ہیں۔ اس طرح کے نعروں کے ساتھ ان خواتین کو کون سی طاقت چاہیے؟ مٹھی بھر افراد ہیں جو پوری قوم کی خواتین کو گمراہ کر رہے ہیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ میرا باپ میری طاقت ہے، میرا بھائی میری عزت کا محافظ بنتا ہے، شوہر سرپرست ہوتا ہے اور بیٹا بڑھاپے کا سہارا بنتا ہے، یہ ہمارا نظام ہے جو مجھے تحفظ دیتا اور طاقت دیتا ہے، تو پھر مجھے اس طرح کے نعروں کے ساتھ خود کو کمزور بناکر کون سی طاقت چاہیے جس کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے۔
ساٹ
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا، خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر جو نعرے استعمال کیے جا رہے ہیں اس سے ہماری بیٹیوں کیلئے مواقع اور کم ہو جائیں گے، عورت مارچ چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیے بغیر نکلنا چاہیے تو اس میں کندھے سے کندھا ملا کر شرکت کریں گے۔

