عورت مارچ پر پتھراؤ، بھگدڑ
اسلام آباد میں عورت مارچ پر جماعت اسلامی اور لال مسجد سے وابستہ دیوبندی تنظیم کے کارکنوں نے پتھراؤ کیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے نیشنل پریس کلب کے سامنے سڑک کی ایک جانب جماعت اسلامی، لال مسجد کی خواتین اور مرد مظاہرہ کر رہے تھے جبکہ دوسری جانب عوامی ورکرز پارٹی اور دیگر تنظیموں کے شرکا ’عورت مارچ‘ میں شریک تھے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دونوں اطراف کے شرکا کے درمیان ایک ٹینٹ/ قنات کو دیوار کی صورت میں کھڑا کیا تھا جس کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات تھے۔
دونوں اطراف ٹرکوں پر سٹیج بنا کر لاؤڈ سپیکر نصب تھے جن سے ایک دوسرے کے خلاف اور اپنے حق میں تقاریر اور نعرے بازی کی جاتی رہی۔

پریس کلب کے سامنے سے جب عورت مارچ کے شرکا واپس سپر مارکیٹ کی جانب اپنی ریلی لے کر جانے لگے تو جماعت اسلامی اور لال مسجد والوں کے مظاہرے کی طرف اپنے پلے کارڈز اٹھا کر نعرے بازی کی۔
عورت مارچ کے ٹرک پر سوار خواتین نے مخالف کیمپ کی جانب رخ کر کے وکٹری کے نشان بنائے جس سے دوسری جانب اشتعال نے قنات اکھاڑ دی۔
جواب میں مذہبی جماعت کے کارکنوں نے شدید نعرے بازی اور دھکم پیل کے ذریعے دیوار کی صورت میں کھڑی قنات کو ہٹایا تاہم پولیس اہلکاروں نے ان کو واپس دھکیل دیا۔ اس دوران مذہبی تنظیم کے شرکا کے پنڈال سے دوسری طرف پتھر اور جوتے اچھالے گئے۔
پولیس نے صورتحال کو قابو کرتے ہوئے عورت آزادی مارچ کے شرکا کو پیچھے کیا جس سے کسی بھی شخص کو چوٹ نہ آئی۔ نعرے بازی اور پتھراؤ کرتے مذہبی تنظمیوں کے افراد چلے گئے جبکہ دوسری جانب عورت مارچ میں شریک خواتین نے سپر مارکیٹ کی جانب تیزی سے مارچ کیا۔

