متفرق خبریں

فوجی عدالتوں کے فیصلوں کی جانچ جاری رہے گی

مارچ 9, 2020

فوجی عدالتوں کے فیصلوں کی جانچ جاری رہے گی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر زیر سماعت دو سو سے زائد اپیلیں سننے سے روکنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔

جہانزیب عباسی ۔ صحافی / اسلام آباد

پیر کو سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کی ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ پشاور ہائی کورٹ میں فوجی عدالتوں کیخلاف دو سو سے زائد اپیلیں زیر سماعت ہیں، سپریم کورٹ میں زیر سماعت اپیلوں پر فیصلے تک پشاور ہائی کورٹ کو روکا جائے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے دیں. جسٹس منیب اختر نے کہا پشاور ہائی کورٹ کو فیصلے سے نہیں روکیں گے،فیصلہ آنے دیں پھر دیکھ لیں گے۔

وکیل صفائی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ میرے موکلان عبدالرشید اور عبدالحفیظ کو کراچی سے دو ہزار چودہ میں گرفتار کیا گیا،میرے موکلان کو فاٹا، پاٹا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا،فاٹا،پاٹا ایکٹ کا اطلاق نہ کراچی پر ہوسکتا تھا نہ ہی قانون میں اس وقت کوئی ترمیم کی گئی،مختلف ایف آئی آرز کی روشنی میں میرے موکلان کو گرفتار کیا گیا،ایف آئی آرز میں میرے موکلان سمیت دیگر نامزد ملزمان بھی گرفتار ہوئے، میرے موکلان کے علاوہ دیگر نامزد ملزمان کے مقدمات کا ٹرائل عام عدالتوں میں چلایا گیا،وفاق نے کیسے میرے موکلان کے مقدمات کا ٹرائل فوجی عدالت میں جبکہ دیگر نامزد ملزمان کا ٹرائل عام دہشتگردی کی عدالتوں میں بھیجا،میرے موکلان پر براہ راست فوج کی طرف سے کوئی الزام بھی نہیں لگایا گیا،ایف آئی آرز کی روشنی میں میرے موکلان کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلا.

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قانون شہادت کے تحت فوجی افسر کے سامنے اعتراف جرم کی کوئی حیثیت نہیں، ملزم کا اعترافی بیان صرف مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہو سکتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد بھٹی نے کہا کہ حراستی مرکز کا مجاز افسر عدالت میں اعترافی بیان لینے کا حلف دیتا ہے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے قرار دیا تمام اعترافی بیانات کی لکھائی ایک جیسی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز میں جو فارمیٹ دیا گیا ہے بیان اس کے مطابق ہی لکھا جاتا، ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا ٹرائل میں کوئی زخمی پیش ہوا نہ پوسٹ مارٹم رپورٹ۔ ساجد بھٹی نے بتایا کہ فوج کے کسی شہید کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا جاتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ہائی کورٹ نے اپیل میں استعمال ہونے والا اختیار آئینی درخواست میں کیا، فوجی عدالتوں میں ججز اور گواہان سب حلف لیتے ہیں، ہائی کورٹ نے ضابطہ فوجداری کو مدنظر رکھ کر فیصلہ دیا جبکہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوتا۔

ساجد الیاس بھٹی کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے مفروضوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا، دہشتگرد جنت کا ٹکٹ سمجھ کر اعتراف جرم کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کو ایک ملزم جمشید علی کے وکیل لائق سواتی نے بتایا کہ فوجی عدالت میں ان کے موکل کو جو وکیل دیا گیا وہ ڈمی تھا، ’جمشید علی کو 2012 میں اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا جبکہ پانچ سال بعد اعترافی بیان کیلئے پیش کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی مداخلت پر جمشید علی کے اغواء کا مقدمہ درج ہوا۔‘

وکیل نے کہا کہ عدالت جائزہ لے کہ آئین بالادست ہے یا آرمی ایکٹ۔ ہم بھی دہشتگردوں اور دہشتگردی دونوں کیخلاف ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں کسی ملزم کو اسکی مرضی کا وکیل نہیں دیا جاتا، ملزمان کو تو ان کا دفاع کرنے والے وکیل کا نام بھی نہیں بتایا جاتا، وکیل کے مطابق جمشید علی گرفتاری سے پندرہ دن پہلے سعودی عرب سے آیا تھا، کھانا کھلانے کے الزام پر جمشید کو سزائے موت دی گئی۔

عدالت نے سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے