سندھ میں بحریہ ٹاؤن کے مزید قبضوں کا انکشاف
بحریہ ٹائون کراچی سے وصول کی جا رہی 460 ارب روپے حاصل کرنے کے لیے وفاق اور سندھ حکومت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں نیا موقف پیش کیا ہے۔
وفاق نے بحریہ ٹائون کی جمع شدہ رقم لینے کا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحریہ ٹائون سے وصول رقم سندھ کے عوام کی ہے صوبائی حکومت کا اس پر حق نہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی جس میں وفاقی سیکرٹری پلاننگ، چیف سیکرٹری سندھ شامل ہوں۔
وفاق کی تجویز کے مطابق ٹائون پلانر، وفاقی اور صوبائی حکومت کے نامزد ایک ایک شہری بھی کمیٹی کا حصہ ہوں، کمیٹی بحریہ ٹائون سے ملنے والے پیسہ سندھ کے عوام پر خرچ کرے گی۔
وفاقی کی تجویز ہے کہ سندھ میں بحریہ کے پیسے سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں، کمیٹی کی نگرانی سپریم کورٹ کا بنچ کرے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی کی تجویز دی گئی۔
ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی بحریہ ٹائون کا پیسہ لینے میدان میں آ گئی جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایم ڈی اے تو زمین تحفے میں دے چکی تھی، سندھ اور ایم ڈی اے کا موقف تھا کہ نہ زمین واپس چاہیے نہ پیسہ۔
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آج پیسہ نظر آیا تو دونوں کو زمین اور ترقیاتی کام یاد آ گئے، جو بحریہ ٹاؤن سے پیسہ لینا نہیں چاہتے تھے انہیں رقم مل گئی تو سب کو معلوم ہے کیا ہوگا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیسہ سندھ حکومت کو ملا تو عوام تک نہیں پہنچے گا۔
سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے سندھ کی زمینوں پر قبضے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹائون کو 16 ہزار ایکڑ زمین دی گئی تھی۔
جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کہ کیا آج بحریہ کے پاس اتنی ہی زمین ہے یا زیادہ ہوگئی؟ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کے وکیل نے جواب دیا کہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ بحریہ کے پاس زمین پہلے جتنی ہے۔
جسٹس عرب نے پوچھا کہ ایم ڈی اے اپنی زمینوں کی حفاظت کیوں نہیں کر سکتا، ایم ڈی اے اپنی زمین کا قبضہ واگزار کرائے۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ایم ڈی اے کو معلوم ہونا چاہیے کہ ریونیو ریکارڈ تبدیل ہو رہا ہے، سپر ہائی وے کے اطراف زمین پتھریلی ہے قابل کاشت نہیں، جو زمین قابل کاشت ہی نہیں وہ موروثی کیسے ہو سکتی ہے؟
وکیل نے کہا کہ کھلی زمین ہے کیا پتا قبضہ ہو گیا ہو۔ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ ایم ڈی اے کو اپنی زمین کی پرواہ ہی نہیں۔

