چینی چور کی رپورٹ کابینہ میں پیش نہ کی جا سکی
وزیراعظم عمران خان نے چینی بحران پر حتمی تحقیقاتی رپورٹ جمع نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں معاشی و سیاسی صورت حال سمیت 11 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔
عمران خان نے چینی بحران پر حتمی تحقیقاتی رپورٹ جمع نہ کروانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو رپورٹ جمع کرانے کےلیے 1 ہفتے کی ڈیڈ لائن دے دی۔
وزیراعظم نے مہنگائی میں مزید کمی کے لئے اقدامات تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ ارکان مہنگائی میں مزید کمی کے لئے اقدامات پر خصوصی توجہ دیں۔
اجلاس میں یوٹیلٹی اسٹورز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں توسیع کرتے ہوئے 3 پرائیویٹ ممبرز کو شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے حفاظتی آلات کی برآمد پر پابندی کی منظوری دیتے ہوئے ای سی سی اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی بھی توثیق کردی تاہم بھارت سے کیڑے مار ادویات کی درآمد کی سمری موخر کردی گئی۔
وفاقی کابینہ اجلاس کے فیصلوں پر بریفنگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ آٹا اور چینی بحران کی رپورٹ جاننا چاہتی تھی لیکن ڈی جی ایف آئی اے نے مذید وقت مانگ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے خدشے فیس ماسک کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اچھی خبر یہ ہے سٹاک مارکیٹ مسائل کے بعد دوبارہ کھڑی ہوگئی اور روپیہ دوبارہ مستحکم ہوگا، پاکستان معیشت میں جھٹکے برداشت کرنے کی سکت ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کردیے گئے ہیں،، جلد ایم کیو ایم کابینہ کا حصہ ہوگی۔ ایم کیو ایم حکومت کا اہم سٹیک ہولڈرز ہے، کوئی ایک جماعت کراچی کے مسائل کو حل نہیں کرسکتی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

