اسلام آباد چڑیا گھر کے لیے کمیشن قائم
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں چڑیا گھر کا انتظام چلانے کے لیے کمیشن قائم کیا ہے۔ کمیشن سیکرٹری وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی نگرانی میں چڑیا گھر کے امور سنبھالےگا، چئیرمین سی ڈی اے، اسلام آباد کے میئر اور چئیرمین وائلڈ لائف مجوزہ کمیشن کے ممبر ہوں گے۔ کمیشن دس اپریل کو عدالت میں رپورٹ جمع کرائے گا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن (ایم سی آئی) کے ملازمین اب بھی چڑیا گھرکےنام پرسیاست کھیل رہے ہیں، کیوں نہ عدالت جانوروں کو مختلف پناہ گاہوں میں بھیجنے کا حکم دے؟ اسلام آباد کے میئر نے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہی کا عذر پیش کیا۔
سنیچر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چڑیا گھر میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔
سیکرٹری وزارت ماحولیات اور مئیر اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اگر جانوروں کا خیال نہیں کر سکتے تو چڑیا گھر بند کردیں، آج بھی قانون موجود ہے جس کے تحت جانوروں کی دیکھ بھال کی جاسکتی ہے، عدالت نے 2015 میں جو حکم دیا تھا آج تک اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کہ ایم سی آئی کے ملازمین آج بھی چڑیا گھر کےنام پرسیاست کھیل رہے ہیں، کیوں نہ عدالت جانوروں کو مختلف پناہ گاہوں میں بھیجنےکاحکم جاری کرے۔ ایم سی آئی کے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ چڑیا گھر کے جانوروں کی دیکھ بھال کرسکے، جانوروں کوتکلیف دینا اسلامی شریعت کی خلاف ورزی ہے۔
چیف جسٹس نےکہا اگرآپ میں صلاحیت نہیں توجانوروں کو مختلف پناہ گاہوں میں بھیج دیتے ہیں، بااثر افراد کی وجہ سےاسلام آباد میں جانوروں کاایریاکورکرلیا گیا، فوری طور پرچڑیا گھرکےجانوروں کی دیکھ بھال کے لیے کیا کرنا چاہیےتجویز کریں۔
سیکرٹری ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے وزیراعظم کے سامنے معاملہ رکھنے کے لیے خط لکھا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہم رول آف لاء کے حوالے سے دنیا بھر میں 120 ویں نمبر پر ہیں، ایم سی آئی کو چڑیا گھر کا چارج دینا غلط تھا۔
مئیر اسلام آباد نےعدالت کو بتایا کہ دستیاب وسائل کے مطابق جتنا ہم کر سکتے ہیں وہ کررہے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہےکہ وفاقی حکومت ہمیں فنڈز نہیں دے رہی۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نےچڑیا گھرکا انتظام چلانے کیلئےہائیکورٹ نے کمیشن قائم کرنے کا حکم جاری کیا۔

