خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے پر تشویش
سپریم کورٹ نے خیبر پختون خوا کے شعبہ صحت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے خیبرپختوخوا شعبہ صحت سے متعلق پشاور ہائی کورٹ سے مقدمے کی اسلام آباد ہائیکورٹ منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ خیبرپختوخوا میں شعبہ صحت کے حالات بہت خراب ہوچکے ہیں، کے پی کے محکمہ صحت کے حوالے سے بہت مقدمات دائر ہیں عدالت ان پر کیا کرے، کے پی کے میں جو بھی نیا شخص تعینات ہوتا ہے اس کے خلاف 5،5 مقدمات دائر ہو جاتے ہیں، کے پی کے شعبے صحت کا ہر معاملہ عدالت میں نہیں آنا چاہیے، خیبرپختونخوا میں بظاہر شعبہ صحت پر تعیناتیاں اقرباء پروری پر ہوئی ہیں۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا وکیل صاحب آپ ہائیکورٹ کے پانچ بینچوں پر اعتراضات کر چکے ہیں. چیف جسٹس بولے آب اس معاملے میں سپریم کورٹ کیا کرے،عبدالطیف آفریدی صاحب آپ کے پی کے کے سنئیر شہری ہیں،آپ اس معاملے کا کوئی بہتر حل تو دیں.
عدالت نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو 3 ماہ میں دستیاب بنیچ کے زریعے کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

