برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی پر کیا گزری؟
یاسر علی خان ۔ برمنگھم
عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے 190 سے زائد ملکوں میں شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ملک برطانیہ میں بھی وبا قابو سے باہر ہوئی اور ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ افراد تاحال متاثر ہوچکے ہیں جبکہ مرنے والوں کی سرکاری تعداد 20 ہزار سے زائد ہے۔
برطانیہ کے ایشیائی و افریقی آبادی والے علاقوں میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے پر مقامی لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
برمنگھم، بریڈ فورڈ اور شیفیلڈ میں پاکستانی کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے جن میں زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
برطانیہ کے علاقے مڈلینڈ (برمنگھم، وولورہمپٹن، نوٹنگھم شائر، سٹاک آن ٹرینٹ، ڈربی شائر، واروکشائر، لیسسٹرشائر وغیرہ) میں اب تک تین ہزار 438 افراد وبا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 11 ہزار سے زائد افراد میں کورونا پازیٹو آیا۔
صرف برمنگھم میں جس کی آبادی 11 لاکھ کے لگ بھگ ہے، دو ہزار 552 کیسز سامنے آئے۔
بریڈ فورڈ جس کو منی پاکستان بھی پکارا جاتا ہے وہاں خوش قسمتی سے کورونا وائرس کی وبا زیادہ نہیں پھیلی اور تاحال صرف 650 افراد متاثر ہوئے ہیں تاہم شیفیلڈ کا علاقہ جس کی آبادی بریڈ فورڈ جتنی ہی ہے وہاں ایک ہزار 850 کیسز رپورٹ ہوئے۔
برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی کی مسجد گھمکول شریف سے وابستہ ایک ورکر جاوید احمد نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں سے اموات میں کمی آئی ہے، اس سے قبل روزانہ 15 سے 20 میتوں کے کفن دفن کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ ان علاقوں میں پاکستانی کمیونٹی مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگی گزار رہی ہے جس کے باعث وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔
برمنگھم کے علاقے میں مسلمان آبادی میں اموات بڑھنے سے میتوں کے لیے کفن دفن کے انتظامات میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ مقامی افراد کے مطابق ایک میت کے دفن پر تین سے چار ہزار پاؤنڈ تک کے اخراجات آتے ہیں۔
میت کے غسل، کفن اور قبر کے اخراجات عام طور پر کمیونٹی کے افراد عطیات سے پورا کرتے ہیں یا اس کے لیے سالانہ طے شدہ چندہ دیا جاتا ہے تاہم ایک ماہ کے دوران بڑی تعداد میں کمیونٹی کے افراد کی اموات کی وجہ سے فنڈز ختم ہو کر رہ گئے۔
برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی کے 48 سالہ محمد شفیق ان خوش قسمت افراد میں سے ہیں جو کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہو کر گھر پہنچے ہیں۔

محمد شفیق نے دو ہفتے کوئین الزبتھ ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر گزارے۔ انہوں نے پاکستانی ٹوئنٹی فور سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وائرس کہاں سے لگا۔
’گھر سے نکلتے، مارکیٹ جاتے ہوئے گلووز اور ماسک استعمال کرنا معمول تھا۔ پھر اچانک ایک دن بخار ہوا، اور دو ہفتے بعد کھانسی شدید ہوئی، سانس لینے میں مشکل ہوئی تو ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘
محمد شفیق نے بتایا کہ تقریبا 14 دن ہسپتال میں رکھا گیا، بہت ہی اچھا ہسپتال ہے اور ہمارا بہت خیال رکھا گیا تاہم وینٹی لیٹر پر رہنے کی تکلیف کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
محمد شفیق کے مطابق ان کو اپنی بیماری کا تو پتہ نہ چلا کہ کہاں سے لگی مگر ہسپتال میں ان کی میرپور سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ مریض سے ملاقات ہوئی جن کو دس دن وینٹی لیٹر پر رکھنے کے بعد ڈسچارج کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ بیماری اٹلی کے ایک شہری سے ان کو منتقل ہوئی۔
محمد شفیق کا کہنا تھا کہ میرپور سے تعلق رکھنے والے مریض نے ان کو بتایا کہ وہ کام کی جگہ پر تھے جہاں اٹلی سے ایک شخص آیا، وہ کھانس رہا تھا اور اس کے بعد وہاں موجود تقریبا تمام افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ کوئین الزبتھ ہسپتال کا طبی عملہ غیرمعمولی طور پر انتہائی مستعد اور اپنے کام سے انتہائی مخلص ہے۔ ’سینکڑوں مریض تھے، ہر کوئی تکلیف میں تھا اور کام بھی طبی عملے کے لیے زیادہ تھا مگر وہ چار پانچ بار ہر مریض کے پاس آ کر صفائی کرتے اور بہت ہی اچھی طرح خیال رکھتے۔ حالانکہ ان کو بھی وائرس لگنے کا خطرہ تھا۔‘
خیال رہے کہ برطانیہ میں طبی عملے اور عام لوگوں کے لیے حفاظتی سامان اور لباس کی شدید کمی ہے اور ترکی سے پی پی ای کٹس لانے والے دوسری فلائٹ تاخیر کا شکار ہے۔
برطانیہ میں ایشیائی و افریقی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کے 25 افراد وائرس کا شکار ہونے کے بعد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ دیگر شہریت کے حامل طبی عملے کے مقابلے میں ان کمیونٹیز کے افراد کی ہلاکت کی شرح زیادہ کیوں ہے۔

