اٹھارویں ترمیم کے خاتمے سے بحران پیدا ہوگا
پاکستان میں حزب اختلاف کی پارٹی جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکمران جماعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف تجربات کرنے والی جماعت نے اگر اٹھارویں ترمیم کو چھیڑا تو ملک میں سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوجائے گا۔ ایک طرف یکجہتی کا درس اور دوسری طرف ائینی ترامیم کی باتیں ائینی بحران کا اشارہ ہیں۔ اٹھارویں ترمیم میں مکمنہ تبدیلی یا ترمیم پر اپوزیشن رہنماوں سے رابطے مکمل کر لیے ہیں۔
جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بیان میں کہا کہ اٹھارویں ترمیم پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر آئینی ترمیم پاس کی تھی اب کس ایجنڈا کے تحت اسے ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے سمجھ سے بالا تر ہے۔ ترمیم کے خاتمے سے سیاسی وآئینی بحران پیدا ہو گا جس کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا حکومت پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کے سفر کو خود آگے بڑھا رہی ہے ہم کسی صورت ایسا ہونے نہیں دیں گے۔موجودہ صورتحال میں ایک طرف حکومت کا یکجہتی کا درس اور دوسری طرف شق کا خاتمہ ائینی بحران کا اشارہ ہے۔
انہوں نے کہا حکومت کو چاہیے کہ ائینی حوالے سے بھی اپوزیشن کو اسی معاملے میں اعتماد میں لے۔
مولانا فضل الرحمن نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں ممکنہ تبدیلی یا ترمیم کے معاملے پر اپوزیشن رہنماوں چیئرمیین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، ن لیگ کے صدر محمد شہباز شریف، محمود خان اچکزئی، میر حاصل بزنجو، آفتاب احمد خان شیر پاو اور میاں افتخار سمیت دیگر رہنماوں سے رابطے مکمل کر لیے ہیں۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کا اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کے تحت صوبوں کے حقوق کے تحفظ پر اتفاق ہو چکا ہے۔

