ڈینیئل پرل کے والدین کا عدالت سے رجوع
18 برس قبل کراچی میں قتل کیے گئے امریکی صحافی ڈینیل پرل کے والدین نے مجرموں کی سزا میں کمی کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چلینج کر دیا ہے۔ مقتول کے والدین نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی رہائی کے سندھ ہائیکورٹ کے 2 اپریل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
جہانزیب عباسی
امریکی صحافی ڈینیل پرل قتل کیس فیصلے پر مقتول کے والدین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کٹھکٹھا دیا ہے۔
امریکی صحافی کے والدین نے بھی سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی رہائی کا سندھ ہائیکورٹ کا 2 اپریل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
اپیل میں موقف اپنایا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے پیش کردہ شواہد کا جائزہ نہیں لیا ملزمان کی رہائی اور سزاوں میں کمی کرنا آئین پاکستان کے منافی ہے، مقدمے میں تسلیم شدہ حقائق موجود ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے شواہد کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا، ہائیکورٹ کا یہ نقطہ درست نہیں کہ اقبال جرم رضاکارانہ طور پر نہیں کیا گیا، سندھ ہائی کورٹ نے فرانزک شواہد کو نظرانداز کیا، مقتول صحافی کو تاوان کے لیے اغوا کرنے اور قتل کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

