پاکستان پاکستان24

دل چرانے پر مقدمہ نہیں ہوتا: جسٹس قاضی

مئی 7, 2020

دل چرانے پر مقدمہ نہیں ہوتا: جسٹس قاضی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی امین نے چوری کی تعریف سے متعلق دلچسب ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض چیزوں کو چرانے پر پرچہ نہیں ہوتا، جیسے دل چرانے پرمقدمہ نہیں۔اسی طرح بعض چیزیں چوری نہیں ہوسکتیں جیسے کسی کا ایمان۔

جمعرات کو چیک ڈس آنر کیس میں ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس قاضی امین نے کہا کہ فوجداری کیس میں گرفتاری نہ ہوتو نظام عدل ختم ہوجائے گا۔

سپریم کورٹ نے چیک ڈس آنر کیس میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کر دی۔ ملزم زوالفقار احمد پر 2 کروڑ سے زائد رقم کے بوگس چیک دینے کا الزام ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ مدعی میرے موکل کا بزنس پارٹنر تھا۔ اس نے چیک چوری کرکے جعلی چیک دینے کا جھوٹا مقدمہ کیا۔

دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا چیک کی بھی چوری ہو سکتی ہے؟ ملزم کیسے دعویٰ کر سکتا ہے چیک چوری ہوئے۔ پہلے چوری کی تعریف پڑھ لیں۔ بعض چیزوں کو چرانے پر پرچہ نہیں ہوتا۔ جیسے دل چرانے پر مقدمہ نہیں ہوتا۔ چیک مووایبل پراپرٹی میں نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کا قانون 1949 سے بہت واضح ہے۔ جسٹس قاضی امین نے فوجداری کیس میں ملزم کی گرفتاری لازمی قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ گرفتاری نہ ہو تو نظام عدل ہی ختم ہو جائے گا اور ملک میں نظام عدل تقریباً پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ چیک پر2019 کی تاریخ درج ہے، لگتا ہے درخواست گزار نے شرارت سے چیک جاری کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے