شوگر تماشا وزیراعظم کی زیرنگرانی ہوا: بلاول
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے کہا ہے شاہ محمود قریشی وزیراعظم بننے کے چکر کس کے کہنے پر پی ٹی آئی میں گئے مگر وہاں بھی شاہ محمود قریشی وزیراعظم نہیں بن سکے اور اب مایوس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ سندھ کارڈ کے حوالے سے بیان واپس لیں یا پھر وزارت سے استعفی دیں ، سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کے سبب پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو اپنی ذمے داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی اجلاس میں آنا چاہیے تھا کیونکہ مشیر صحت قومی اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتا اصل میں بطور وزیرصحت یہ وزیراعظم کی ذمہ داری تھی وزیراعظم نے انتہائی غیر زمہ دارانہ کام کیا قومی اسمبلی کےاجلاس شرکت نہیں کی۔
بلاول بھٹو نے چینی بحران کے حوالے سے تحقیقات کو ’شوگر تماشہ‘ قرار دیا اور کہا کہ تمام معاملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم یا تو سادہ ہیں یا پھر کرپٹ۔ بلاول بھٹو نے چینی بحران کا ذمہ دار وزیراعظم کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا، وزیراعظم کے ماتحت ہوا۔
شوگر بحران اور کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ 25 تاریخ کو رپورٹ منظرعام پرلانے کا کہا گیا تھا، جو اب تک سامنے نہیں آسکی، اس کا مطلب یہ ہے کہ رپورٹ وزیراعظم کو پسند نہیں آئی اس لیے تاخیر کا شکار ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے بھی صحت کی وجہ سے احتیاط کی آصف زرداری کی صحت اب بہتر ہے۔
بلاول نے کہا نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر کا یہ کہنا کہ میں سندھ کارڈ کھیل رہا ہوں بہت افسوسناک ہے، جب شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب کے مسائل پر بات کرتا ہے تو قریشی صاحب کیا جنوبی پنجاب کارڈ کھیل رہے ہوتے ہیں؟ شاہ محمود قریشی وزارت سے استعفی دیں انہیں وزیراعظم بنانے کے لارے کس نے لگائے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلال بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کے سبب پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو اپنی ذمے داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس سے نبرد آزما طبی عملے اور ڈاکٹرز کو سلام پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم عالمی وبا کے دوران تعمیراتی شعبے اور ریئل اسٹیٹ کو ریلیف پہنچا سکتے ہیں تو وفاقی حکومت ذمے داری اٹھاتے ہوئے طبی عملے اور نظام صحت کو بھی ریلیف فراہم کرے۔
بلاول نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے کہا کہ 25سال بعد ٹڈی دل کے سب سے بڑے حملوں کی وجہ سے پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کو زیادہ خطرہ ہے اور ہم نے اس سلسلے میں وفاق سے مدد بھی طلب کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہمارے فرنٹ لائن پر موجود طبی عملے کو تمام تر حفاظتی سامان کی فراہمی کے ساتھ معاشی طور پر بھی تحفظ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

