دنیا عمران خان کے راستے پر چل پڑی: اسد عمر
پاکستان میں منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا سے درپیش صورتحال میں پوری دنیا اس راستے پر چل پڑی ہے جس کا وزیراعظم عمران خان پہلے دن سے بتاتے رہے۔
جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کورونا کی نمٹنے کی حکمت عملی پر حکومتی و اپوزیشن ارکان آپس میں لڑتے رہے۔ پیپلز پارٹی کی شازیہ مری کا مائیک بند کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جبکہ وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان اور ن لیگی رکن کھیل داس کوہستانی میں جھڑپ بھی ہوئی۔
رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی بلڈ پریشر کم ہونے پر ایوان میں گر پڑے۔

کورونا سے درپیش صورتحال پر ایوان میں بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ جو راستہ وزیراعظم عمران خان نے بہت پہلے اپنایا دنیا اب اسی راستے پر جا رہی ہے۔
احسن اقبال کا ایوان میں کہنا تھا کہ وزیراعظم انا کے کوہ ہمالیہ پر بیٹھے ہیں، کسی قسم کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔
جمعے کو کورونا سے درپیش صورتحال پر پورا ہفتہ جاری رہنے والا قومی اسمبلی کا اجلاس حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کی آپس میں تو تکار اور شور شرابے کے دوران غیر معینہ مدت تک کے لیے ختم ہوگیا۔
قومی اسمبلی اجلاس جمعے کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا۔
مسلم لیگ ن کے رکن احسن اقبال نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ شاہد خاقان عباسی کے بعد میں بھی مطالبہ کررہا ہوں حکومت کے پاس کورونا پر پالیسی کا ایک بھی پیپر ہے تو ایوان میں پیش کرے۔داخلہ، خارجہ، معاشی، صحت، دفاع کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔ وزیراعظم انا کے کوہ ہمالیہ پر چڑھے بیٹھے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں ترمیم پر بلاضرورت بحث شروع کروائی گئی۔
پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ سندھ کو بھی وفاق کا یونٹ مان لیں اور اس پر حملے بند کردیں اٹھارہویں ترمیم کسی صورت واپس نہیں ہوگی۔ شازیہ مری کا مائیک بند کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔

وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ وہ خود کو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں مگر 1985سے اقتدار کے مزے لینے والوں کو بھی احتساب کا سامنا کرنا ہوگا۔
غلام سرور خان کی تقریر پر مسلم لیگ ن کے رکن کھیل داس کوہستانی نشست سے اٹھے اور کہا کہ حکومت کو نوازشریف فوبیا ہوگیا ہے۔ ”میرے قائد کے خلاف بات کروگے تو بات نہیں کرنے دوں گا۔“
غلام سرور خان اور کھیل داس کوہستانی میں خاصی تو تکار ہوئی جس کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ کسی کی خواہش پر احتساب بند نہیں کیا جاسکتا مگر مناسب ترامیم پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
بحث سمیٹتے ہوئے پالیسی بیان میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ جس پالیسی پر وزیر اعظم نے دوماہ قبل جوراستہ اپنایا دنیا آج اس راستے پر آرہی ہے۔
”ہمیں مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ کرونا کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا اور آہستہ آہستہ کاروبار شروع کرنا ہوگا تاکہ غریب کو بھوک سے بچایا جاسکے۔ ایوان اور ٹی وی چینلز پر سیاست ہوتی ہے مگر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر میں مرکز اور صوبے مل کر حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ ہے کہ 22 کروڑ کے ملک میں اڑھائی ماہ میں جس تناسب سےلوگ مرے ہیں دنیا کے چھوٹے چھوٹے ترقی یافتہ ممالک میں اس سے کئی گنا زیادہ مرے ہیں۔“
ان کا کہنا تھا کہ سویڈن کی دس لاکھ آبادی میں ساڑھے تین سو برطانیہ میں دس لاکھ آبادی میں پانچ سو لوگ اوسطا مرے ہیں مگر ہمارے ہاں اللہ کے کرم سے وبا بڑھنے کے باوجود حالات کنٹرول میں ہیں۔
اجلاس کے دوران ایم ایم اے کے رکن منیر اورکزئی شوگر کم ہونے سے ایوان میں گر پڑے جنہیں فوری طورپر ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

