نواز شریف کے پھر وارنٹ گرفتاری جاری
پاکستان میں احتساب کی ایک مقامی عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس اور توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں جبکہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی ہے۔
احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو جمعے کو عدالت میں طلب کیا تھا۔سابق صدر اور 2 سابق وزرائے اعظم کے خلاف احتساب عدالت میں سماعت کے دوران سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔
سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف عدالت میں پیش نہ ہوئے۔
دورانِ سماعت نیب نے عدالت میں یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرنے کی استدعا کی۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کی جانب سے آصف علی زرداری اور نواز شریف کے بھی وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو سمن ان کی رہائش گاہوں پر وصول کروائے، انور مجید اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، وہاں سمن وصول نہیں کیے گئے۔
سماعت کے دوران عدالت میں آصف علی زرداری کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی گئی جس میں ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آصف زرداری علیل ہیں اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔
احتساب عدالت کےجج سید اصغر علی نے کہا کہ آصف علی زرداری کو صرف آج کی حاضری سے استثنیٰ دے رہا ہوں، آئندہ سماعت پر انہیں ہر صورت عدالت میں پیش ہونا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کی طرف سے کون پیش ہوا ہے؟
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ میاں نواز شریف کی طرف سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔
احتساب عدالت نے نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت تمام ملزمان کو 11 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا جبکہ سمن کی تعمیل کے باوجود عدم حاضری پر نواز شریف کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کیے۔

