پاکستان24 متفرق خبریں

بی آر ٹی کا ٹھیکہ کیسے دیا گیا؟ سپریم کورٹ

جون 3, 2020

بی آر ٹی کا ٹھیکہ کیسے دیا گیا؟ سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک بار پھر پشاور کے مشہور زمانہ بی آر ٹی (میٹرو بس) منصوبے میں بے ضابطگی کی تحقیقات سے ایف آئی اے کو روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے منصوبے میں تاخیر اور بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو حکم دیا تھا جس کو حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے حکم امتناع حاصل کیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کے صوبائی حکومت کی اپیل کو زیادہ عرصہ حکم امتناع میں نہیں رکھنا چاہتے تاہم عدالت نے سرکاری وکیل کی التوا کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

عدالت نے بی آرٹی منصوبے کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے آبزرویشن دی کہ کئی معاملات کو دیکھنا ہوگا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت نے منصوبے کے حوالے سے مخصوص چیزوں کا جائزہ لینا ہے، بی آر ٹی منصوبہ کی شفافیت کا جائزہ لیں گے، منصوبے کا تعمیراتی ٹھیکہ کیسے دیا گیا یہ بھی دیکھیں گے۔

عدالتی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ منصوبہ میں کہیں مفادات کا ٹکراو تو نہیں؟ صوبائی حکومت نے نامکمل منصوبے پر اربوں روپے تو خرچ نہیں کر دیئے؟ دیکھنا ہوگا کہ منصوبے میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کیسے کیا گیا؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ منصوبہ کہیں بغیر تیاری کے شروع تو نہیں کیا گیا؟ منصوبے کے ڈیزائن میں بار بار عوام کے پیسے سے تبدیلی گئی۔ عدالت منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا جائزہ بھی لیں گے۔

جسٹس عمر بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت صوبائی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کی درخواست پر ملتوی کی۔

واضح رہے کہ یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کی ہے اور حکومت کو سٹے پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔

پشاور کا بی آر ٹی منصوبہ گزشتہ اڑھائی برس تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے لیے درد سر بنا ہوا ہے جس کی پاکستان اور دنیا بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے