ٹڈیوں کو پکڑ کر پیسے کیسے کمائیں؟
پاکستان اور انڈیا سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں ٹڈیوں نے فصلوں پر حملہ کیا ہوا ہے۔
انڈیا میں ٹڈیوں کو میوزک بجا کر بھگایا جا رہا ہے تو پاکستان کے بیشتر علاقوں میں ترکی سے منگوائے گئے جہاز کے ذریعے سپرے کر کے ٹڈی دل کے خاتمے اور فصلوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر پاکستان کے ضلع اوکاڑہ میں ٹڈیوں سے نمٹنے اور ان کو چکن فیڈ یا مرغیوں کی خوراک میں استعمال کرنے کے پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے نیا حل پیش کیا گیا ہے۔
اس پراجیکٹ کے ذریعے علاقے کے کاشتکار ٹڈیوں کو چکیوں کے ذریعے اعلیٰ پروٹین چکن فیڈ میں بدل کر پیسہ کماتے ہیں۔

وزارت قومی فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے ڈاکٹر محمد خورشید اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے بائیوٹکنالوجسٹ جوہر علی کی تجویز پر ٹڈیوں کو پکڑنے اور مرغیوں کی خوراک میں شامل کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔
ڈاکٹر خورشید کے مطابق وہ گزشتہ برس مئی میں یمن میں ایک مثال سے متاثر ہوئے تھے جہاں جنگ کی وجہ سے قحط کا سامنا کرنے والوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ٹڈیوں کو فصل کھانے سے پہلے ہی کھا لو۔
ٹڈی دل کو پکڑنے اور بیچنے کے لیے پائلٹ پراجیکٹ ضلع اوکاڑہ میں شروع کیا گیا کیونکہ یہ پنجاب انتہائی زرخیز علاقہ جہاں باغات ہیں۔
پنجاب کے دیپالپور کے پہاڑ جنگل میں تین روزہ آزمائشی پروجیکٹ شروع کیا گیا جہاں فروری 2020 کے وسط میں ٹڈیوں کے حملے کی اطلاع ملی تھی۔ جنگل کے علاقے کو منتخب کرنے کی وجہ کیڑے مار دوا سے آلودہ نہ ہونا تھا۔
پراجیکٹ کے تحت ٹڈیوں کو پکڑو اور پیسہ کماؤ کا نعرہ لگاتے ہوئے کسانوں کو ایک کلو ٹڈی پر 20 روپے دینے کی پیشکش کی گئی، کسانوں نے ٹڈیوں کو پکڑنا شروع کیا اور تقریبا 20 ہزار پاکستانی روپوں کی ٹڈیاں پروجیکٹ کو فروخت کی گئیں، بعد میں ان کو چکن فیڈ میں استعمال کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے تین صوبوں کے 50 اضلاع ٹڈی دل کے حملوں سے متاثر ہیں۔
اندرون سندھ اور خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے بعض علاقوں میں ٹڈی دل کو انسانی خوراک میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں پروٹین پائی جاتی ہے۔

