ملک ریاض کے داماد کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ سپریم کورٹ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو کراچی کے بحریہ آئیکون ٹاور کیس کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حتمی ریفرنس کی کاپی چھ جولائی تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعرات کو عدالت نے یہ حکم ڈاکٹر ڈنشا کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
جہانزیب عباسی، صحافی ۔ اسلام آباد
سپریم کورٹ نے ملک ریاض کے داماد اور مقدمے میں شریک ملزم ذین ملک کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قاضی امین نے پوچھا کہ نیب نے زین ملک کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ زین ملک اور ڈاکٹر ڈنشا 50 فیصد کے پارٹنر ہیں۔
جسٹس قاضی امین نے پوچھا کہ نیب کا رویہ تمام ملزمان کے ساتھ مساوی کیوں نہیں ہے؟ نیب زین ملک کا سہولت کار کیوں بنا ہوا ہے؟
جسٹس قاضی امین نے پوچھا کہ آئیکون ٹاور کے لیے جس وزیراعلی نے زمین کی منظوری دی وہ کہاں ہے؟ نیب ملزمان کی قانون سے بچانے کیلئے مددگار کیوں بنا ہوا ہے؟ کیا ریاست کی زمین پر شاندار عمارت بنانا درست ہے؟
نیب کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ٹاور کیلئے باغ ابن قاسم کی زمین الاٹ کی گئی۔
ڈاکٹر ڈنشا کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل ستمبر 2008 میں وزیراعلی کے مشیر بنے، بحریہ آئیکون کے لیے زمین اپریل 2008 میں الاٹ ہوئی۔
جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ کیا مشیر بننے سے پہلے ڈاکٹر ڈنشا کی حکومت کے ساتھ دشمنی تھی؟ ایسی بات نہ کریں جس سے آپکا کیس کمزور ہو۔
جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ایسی باتوں کیلئے دستاویزات دیکھنے کی ضرورت نہیں، سب کچھ نوشتہ دیوار ہے، بس کر دیں اب بہت ہوُچکا۔
مزید سماعت چھ جولائی سے شروع ہونے والی ہفتے میں ہوگی۔

