لائسنس منسوخی کی مجوزہ ترمیم قبول نہیں: وکلا تنطیم
رپورٹ: خالدہ شاہین رانا
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے”وکلاء کے کسی کسی شخص کوجسمانی تشدد کا نشانہ بنانے، دھوکہ دہی، فراڈ، جھوٹا بیان حلفی دینے یا جان بوجھ کر حقائق کو چھپانے جیسے واقعات میں ملوث ہونے“ کی صورت میں ان کا پریکٹسنگ لائسنس تاحیات منسوخ کرنے سے متعلق قانون میں مجوزہ ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے ایسی کوئی ترمیم کرنے کی کوشش کی تو ملک بھر کی وکلاء برادری عدالتوں کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی اس کے خلاف پرزور احتجاج کرے گی۔
سنیچر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق بار کے صدر قلب حسن کی صدارت میں منعقدہ ایگزیکیٹیو کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کی اس مجوزہ ترمیم کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ میانوالی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان کی جانب سے گزشتہ سال قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے مجوزہ بل کے مطابق حالیہ پرتشدد کاروائیوں میں قانون دان برادری کے لوگوں کے ملوث ہونے اور مستقبل میں قانون کے پیشے کے لوگوں اور عدالتی کارروائیوں کو پرامن ماحول کی فراہمی کے لئے یہ مجوزہ بل قومی اسمبلی میں جمع کروایا گیا جس کے مطابق لیگل پریکٹشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973کی دفعہ 41 میں ایک ذیلی دفعہ6 کا اضافہ کردیا جائے گا ، جسے لیگل پریکٹشنرز اینڈ بار کونسلز(ترمیمی ) ایکٹ2019کہا جائے گا۔
اس ترمیم کے مطابق اگر کوئی وکیل کسی دھوکہ دہی ، فراڈ، جھوٹا بیان حلفی دینے یا جان بوجھ کر حقائق کو چھپانے میں ملوث ہوا یا کسی شخص کوجسمانی تشدد کا نشانہ بنائے گا تو اس کا پریکٹسنگ لائسنس تاحیات منسوخ کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان بار کونسل میں پہلے ہی وکلاء کے احتساب کا ایک مکمل نظام موجود ہے ،جس کے متعدد ٹریبونلز بھی موجود ہیں،جن کے پاس وکلاء کے خلاف ایکشن لینے کے مکمل اختیارات موجود ہیں۔
بار کے بیان کے مطابق اس مجوزہ ترمیم کے ذریعے وکلاء کی خود مختاری اور آزادی،اظہار رائے کی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت کو کسی بھی ایسی کارروائی سے جو کہ وکلاء میں بے چینی کا سبب بنے ،سے باز رہنے اور ایسی کسی بھی ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے ایسی کوئی ترمیم کرنے کی کوشش کی تو ملک بھر کی وکلاء برادری عدالتوں کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی اس کے خلاف پرزور احتجاج کرے گی۔

