متفرق خبریں

آغا افتخار نے تفتیش میں کیا بتایا؟ رپورٹ تیار

جولائی 1, 2020

آغا افتخار نے تفتیش میں کیا بتایا؟ رپورٹ تیار

جسٹس قاضی فائز عیسی کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کا معاملہ،ایف آئی اے کا تحقیقات رپورٹ میں کہنا ہے کہ توہین آمیز ویڈیو میں استعمال کی گئی زبان انسداد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے،مرکزی ملزم آغا افتخار الدین اور شریک ملزم اکبر علی کیخلاف دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،دونوں ملزمان چھ جولائی تک ریمانڈ پر ہیں،مقدمے کے ہر زاویے سے تحقیقات کرکے دیگر شریک ملزمان تک پہنچا جائے گا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کے معاملے پر ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں عبوری رپورٹ جمع کرادی۔ایف آئی اے نے رپورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ دھمکی آمیز ویڈیو میں استعمال کی گئی زبان دہشتگردی کے زمرے میں آتی ہے،انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،اسسٹنٹ کمشنر ایف آئی اے خرم سعید کی سربراہی میں تحقیقات کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

ایف آئی اے رپور ٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ راولپنڈی کے رہائشی آغا افتخار الدین مرزا اور سکردو کے رہائشی اکبر علی کو گرفتار کیا گیا،دونوں گرفتار ملزمان سے چار موبائل فون اور لیب ٹاپ برآمد کیے گئے،برآمد شدہ موبائل فون اور لیب ٹاپ کا کیمیائی تجزیے کیلئے فرانزک لیب بجھوا دیا گیا ہے، جامع تفتیش کرکے دونوں ملزمان کو عدلیہ مخالف ویڈیو اور تقریر کا تحریر متن دیا گیا۔

ایف آئی اے کا رپورٹ میں مزید کہنا ہے کہ ملزم افتخار الدین مرزا نے اپنے بیان میں کہا وہ راولپنڈی کی ایک امام گاہ کیساتھ منسلک ہے، ملزم افتخار الدین مرزا نے بیان میں کہا وہ اقرا ٹی وی کے نام سے ایک ویب ٹی وی دو ہزار سترہ سے چلا رہا ہے، ملزم افتخار الدین مرزا نے کہا شریک ملزم اکبر علی اس کے بیان کو یو ٹیوب اور فیس بک پر اپ لوڈ کرتا ہے، شریک ملزم اکبر علی نے اپنے معاون رسول شاہ کیساتھ مل کر میری ویڈیو یو ٹیوب اور فیس بک پر اپ لوڈ کی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم افتخار الدین مرزا نے کہا کہ جیسے ہی اس نے ویڈیو دیکھی فورا اسے ڈیلیٹ کرنے کا کہا، ملزم افتخار الدین مرزا نے کسی کے کہنے پر عدلیہ مخالف گفتگو کرنے اور ویڈیو بنانے سے انکار کیا، شریک ملزم اکبر نے کہا وہ اس وقت خوف زرہ ہوگیا جب اسے ویڈیو پر ایک کمنٹ میں بتایا گیا یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، شریک ملزم اکبر علی نے کہا وہ خوف زدہ ہوگیا اور ویڈیو ڈیلیٹ کردی۔

ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس آئی پی ایڈریس سے ویڈیو اپ لوڈ کی گئی اسے ٹریس کر لیا گیا ہے،یو ٹیوب چینل کے سبسکرائبرز اور سی ڈی آر ایس تک پہنچنے کیلئے آپریٹرز سے رجوع کر لیا گیا ہے، ملزمان کے زیر استعمال موبائل سمز کی کھوج سے دیگر ممکنہ شریک ملزمان تک پہنچا جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے