شوگر کیس: سپریم کورٹ کے ایف بی آر پر سوال
پاکستان کی سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عمل در آمد روکنے کے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مستر د کردی۔عدالت نے ایف بی آر کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھادیئے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
عدالت نے مقدمہ تین رکنی بنچ سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت چودہ جولائی تک ملتوی کردی۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ایف بی آر میں اتنی صلاحیت نہیں ہے وہ شوگر ملز کیخلاف دس سال میں بھی تحقیقات مکمل کر سکے،ایف بی آر کی کتنی صلاحیت ہے ہمیں سب پتہ ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں کئی مواقعوں پر کمیشن بنانے سے اجتناب کیا جاتا رہا۔اٹارنی جنرل نے کہا کیا ہم شوگر ملز رپورٹ کو الماری میں محفوظ کر لیں یا عجائب گھر میں سجا کر رکھیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔اٹارنی جنرل بولے کمیشن رپورٹ منظر عام پر لانا ہی اصل تبدیلی ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے بتایا کمیشن ارکان پر جرح کے بغیر رپورٹ بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکتی۔
چیف جسٹس نے کہا رپورٹ کی حیثیت صرف فیکٹ فائینڈنگ انکوائری کی ہے،ریگولیٹری اداروں کو کام سے نہیں روکا جاسکتا،ملز مالکان کو مکمل دفاع کا موقع ملے گا۔
جسٹس اعجا ز الااحسن نے کہا سندھ ھائی کورٹ کے پا س وہی مل مالکان گئے جو اسلام اباد ہائی کورٹ گئے۔

