متفرق خبریں

آغا افتخار کا معافی نامہ مسترد، توہین عدالت کا نوٹس

جولائی 2, 2020

آغا افتخار کا معافی نامہ مسترد، توہین عدالت کا نوٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے عدلیہ کی تضحیک اور جسٹس فائز کو دھمکی دینے والے ملزم آغاافتخار الدین مرزا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دنو ں میں جواب طلب کیا ہے جبکہ ملزم کا غیر مشروط معافی نامہ بھی مسترد کردیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ممبر پر بیٹھ کر عدلیہ کیخلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ گلیوں، چوراہوں میں بھی استعمال نہیں کی جاتی۔

ملزم کی وکیل نے کہا آغا جی دل کے مریض ہیں،اُن کی دل کی شریانیں بند ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا جب وہ شعلہ بیانی کر رہے تھے اُس وقت ان کی دل کی دھڑ کن کیوں نہیں رکی۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا سپریم کورٹ کا حکم آئے تو چکر آہی جاتے ہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ نے ملزم آغا افتخار الدین مرزا کو توہین عدالت قانون کی شق پانچ کے تحت شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا بتایا جائے توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔خیال رہے توہین عدالت قانون کی شق پانچ کے تحت توہین عدالت کے مرتکب ملزم کو چھ ماہ جیل یاترا،ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

سماعت کا آغاز ہوا تو ملزم افتخار الدین مرزا کی وکیل سرکار عباس نے پیش ہوکر بتایا اُن کے موکل نے غیر مشروط معافی نامہ جمع کرادیا ہے۔جسٹس اعجا ز الااحسن نے کہا ملزم نے سپریم کورٹ کے جج صاحب کیلئے جو الفاظ استعمال کیے گئے کیا یہ مہذب زبان ہے؟عدلیہ کیخلاف ایسی غیر مہذب اورتوہین آمیز زبان استعمال کرنے کے بعد کیا معافی مانگ لینا کافی ہے؟غیر مشروط معافی نامے کا اصول واضح ہے،غیر مشروط معافی نامہ خوف سے بالاتر ہونی چاہیے،عدالتی نوٹس کے بعد معافی مانگی گئی۔

ملزم آغا افتخار الدین مرزا کی وکیل نے کہا میرے موکل کو بیان کی شدت کا اندازہ نہیں تھا،انھوں نے نجی محفل میں گفتگو کی۔جسٹس اعجا ز الااحسن نے کہا مغرب کی نماز کے بعد ممبر پر بیٹھ کر سات لوگوں کی موجودگی میں بیان دیا گیا اور ویڈیو بنائی گئی،جہاں تک یہ دلیل ہے کہ ویڈیو بغیر اجازت کے اپ لوڈ کی گئی یہ معاملہ مزید تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے،ملزم کا غیر مشروط معافی نامہ بذات خود جرم کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے،جب یہ کہا جارہا ہے ملزم نے کچھ کیا ہی نہیں تو پھر معافی کیوں مانگی جارہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ملزم افتخار الدین مرزا نے جو بیان خلفی جمع کرایا اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے،اوتھ کمشنر کیسے تصدیق کر سکتا ہے بیان خلفی دینے والا شخص وہی ہے جو اُس کے سامنے موجود ہے۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کچہری میں بیٹھے اوتھ کمشنر کو یہ کیسے پتہ بیان خلفی دینے والا کون ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا چیزوں کو اتنا ہلکا نہ لیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے،ہم چھ ماہ کیلئے ملزم کو جیل بھیج دیتے ہیں۔مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم افتخار الدین مرزا کی وکیل اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ملزم کی وکیل نے کہا میرے موکل دل کے مریض ہیں،انکی دل کی سب شریانیں بند ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ملزم نے اُس وقت اپنی زبان کو کنٹرول میں کیوں نہیں رکھا،جب وہ شعلہ بیانی کر رہے تھے اُس وقت دل کی دھڑکن تیز نہیں ہوئی؟

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا ملزم نے یہ کوئی ویڈیو نہیں بنائی،ملزم افتخار الدین مرزا پورا ویڈیو چینل چلا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا ویڈیو اپ لوڈ کرکے ملزم پیسے کماتا تھا۔ملزم کی وکیل نے کہا میرے موکل اس وقت پمز ہسپتال میں زیر علاج ہے،غریب آدمی ہے بیچارہ مر جائے گا،عدالت رحم کرے۔چیف جسٹس نے کہا جب شعلہ بیان ہو رہی تھی اُس وقت بیماری کہاں گئی تھی۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا ملزم نے عدلیہ کیلئے جو الفاظ استعمال کیے ایسی زبان گلیوں،چوراہوں میں بھی استعمال نہیں کی جاتی،ایسی زبان ایک مذہبی سکالر نے استعمال کی۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا ملزم کا ویب ٹی وی ہے،سبسکرائبرز ہیں۔ ملزم کی وکیل نے کہا اللہ بھی معاف کردیتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا بہت سارے ایسے گناہ بھی ہیں جو معاف نہیں ہوتے۔خاتون وکیل نے کہا میرے موکل پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا،ویڈیو پندرہ بچے نے اپ لوڈ کی۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا آپ دہشت گردی کی دفعات کو متعلقہ فورم پر چیلنج کرنے کا مکمل قانونی حق رکھتے ہیں،ملزم نے بیان خلفی میں کچھ کہا،آپ کے پہلے دلائل کچھ تھے اور آپ کچھ اور دلائل دے رہے ہیں،اب آپ نے سب کچھ پندرہ سالہ بچے پر ڈال دیا ہے۔

ملزم کی وکیل نے کہا میں اپنے موکل کی میڈیل رپورٹ بھی ساتھ لائی ہوں۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کیا آپ یہ مثال قائم کروانا چاہتی ہیں پہلے عدلیہ کی توہین آمیز ویڈیو بنائی جائے پھر معافی مانگ کر جان چھڑالی جائے،عدلیہ ملک کا ایک ادارہ ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا ملزم نے پوری عدلیہ کی تضحیک کی،ملزم اس وقت ہسپتال میں ہیں، ملزم دل کے مریض ہیں لیکن ابھی اُنکی ای سی جی نارمل آئی ہے،ملزم کا کہنا ہے انھیں چکر آرہے ہیں۔جسٹس اعجا ز الااحسن نے کہا جب سپریم کورٹ کا حکم آئے گا تو چکر ہی آئیں گے لیکن یہ چکر اُس وقت کیوں نہیں آئے جب ملزم شعلہ بیانی کر رہے تھے۔

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی طرف سے ایک خط پیش کرنے کا کہا گیا تو عدالت نے خط وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا خط مروجہ طریقہ کار کے مطابق دفتر میں داخل کرایا جائے۔جب ایک وکیل نے روسٹرم پر آکر یہ کہا وہ دو ٹی وی اینکرز کی طرف سے پیش ہوئے ہیں تو عدالت نے انھیں سننے سے انکار کرتے ہوئے روسٹرم چھوڑ نے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس نے اینکرز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا پیچھے ہٹ جائیں۔

عدالت نے قرار دیا اوتھ کمشنر اسد عباس جعفری کے زریعے غیر مشروط معافی نامے کا بیان خلفی جمع کرایا، بیان خلفی میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ملزم نے سارا ملبہ دوسرے شخص پر ڈال دیا، ہم غیر مشروط معافی نامے کو مسترد کرتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا بظاہر یہ مقدمہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، توہین عدالت قانو ن کی شق پانچ کے تحت ملزم افتخار الدین مرزا کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں، ملزم سات دنوں میں توہین عدالت نوٹس کا سا ت دنوں میں جواب دیں۔

عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت دی ملزم کو پندرہ جولائی کے دن سپریم کورٹ میں رپورٹ کے ہمراہ پیش کیا جائے۔

جہانزیب عباسی اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں جو سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے