پاکستان پاکستان24

’کورونا کی غلط رپورٹس پر پاکستان کی بدنامی ہوئی‘

جولائی 2, 2020

’کورونا کی غلط رپورٹس پر پاکستان کی بدنامی ہوئی‘

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی وجہ سے کورونا پھیلنے کے الزامات غلط ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معید یوسف کا کہنا تھا کہ بیرون ملک جانے والے بہت کم تعداد میں پاکستایوں کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ اور نیوزی لینڈ جانے والے پاکستانیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آںے کے بعد بین الاقوامی ایئر لائنز نے پاکستان کے ٹیسٹنگ نظام پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے ایئرپورٹس پر لیبارٹری یا ٹیسٹ کرانے کی مانگ کی تھی۔

معید یوسف نے پاکستان شہریوں سے کہا ہے کہ صرف وہی لوگ بیرون ملک سفر کریں جن کے لیے بہت ضروری ہو۔
قومی سلامتی ڈویژن کے مشیر نے بتایا کہ دنیا کے کئی ممالک نے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہاں جانے والوں کا کورونا ٹیسٹ ہو چکا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھی اپنے ایئرپورٹس پر آنے والوں کو سکین کرنے اور سوال و جواب کا نظام متعارف کرایا ہے اور دیگر ملکوں میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’خود کو خطرے میں نہ ڈالیں اور غلط خبروں پر بھروسہ مت کریں‘۔

معید یوسف کے مطابق پاکستان سے باہر جانے والوں اور واپس آنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا جن مسافروں میں علامات پائی جائیں وہ لازمی ٹیسٹ کروا کے ائیرپورٹ جائیں ورنہ سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
’کچھ لوگ کورونا کی غلط رپورٹس لے کر گئے اور وہاں ان کا ٹیسٹ مثبت آیا جس کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہوئی‘۔

معید یوسف نے کہا کہ سیروتفریح کے لیے بیرون ملک سفر سے گریز کیا جائے کیونکہ کسی وقت کسی ملک میں کورونا کی وجہ سے نقل و حمل کی پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے اور ہمارے شہریوں کو مشکل پیش آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سیر کے لیے باہر گئے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کو واپس لایا جائے۔ ’پہلے بھی پاکستانیوں کو واپس لایا گیا ہے اور دیگر تمام کو بھی لایا جائے گا‘۔


انہوں نے بیرون ملک جانے کی خواہش رکھنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہ سفر سے قبل اپنے اور اس ملک جہاں وہ جانا چاہتے ہیں کی پالیسی کا اچھی طرح جائزہ لیں، پھر سفر کریں۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کورونا ختم نہیں ہوا، اس لیے غیرضروری سفر سے اجتناب کیا جائے۔
’ہم گارنٹی نہیں دے سکتے کہ کس ملک کی حدود کب تک کھلی ہوں گی، دنیا کی پالیسی ہمارے کنٹرول میں نہیں، وہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے