وزیر ہوا بازی کے گند صاف کرنے کے بیان میں پارلیمان میں شور شرابہ
پاکستان میں ہوابازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے یورپ کے لیے قومی ایئر لائن پی آئی اے کی پروازیں پہلی بار معطل نہیں ہوئیں۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ جعلی ڈگری والے 54 پائلٹوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی دنیا بھر میں ایئر لائنز اور مسافروں کی حفاظت پر نظر رکھتی ہے۔ ‘پروازوں کی معطلی پہلی بار نہیں ہوئی لیکن کبھی انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق توجہ نہیں دی گئی۔ 2007 میں بھی حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر آپریشن معطل ہوا تھا۔“
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ماضی کا گند صاف کر رہے ہیں جس پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ اور نعرے بازی کی۔
ن لیگ کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ خوشی ہوگی کہ گند صاف کریں لیکن پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ گند اس حکومت نے کیا ہے۔ جن جن پائلٹس کے نام لیے گئے ان میں سے بہت سے نوکریاں پہلے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
مرتضی عباسی نے کہا کہ ‘یہ کہتے ہیں یہ پچھلا گند صاف کرنے آئے ہیں، ان کا اپنا اتنا گند ہے کہ اگر طیارہ حادثہ نہ ہوتا تو اور پتا نہیں کتنا پڑ جاتا۔ اب وزیر صاحب کہہ رہے ہیں وزارت قانون سے رائے لے رہے ہیں۔ ایوان کو بتایا جائے کہ حکومت کے اس اعلان سے کتنا نقصان ہوا؟ بہتر تھا کہ پہلے تحقیق پھر بات کرتے۔’
یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی اور برطانیہ کی جانب سے پی آئی اے کا یورپ کے لیے لائسنس 6 ماہ کے لیے معطل کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس مرتضی جاوید عباسی اور دیگر نے پیش کیا تھا۔
وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پی آئی اے پر چھ ماہ کے لیے پابندی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے مگر اس کا پس منظر جاننا بھی ضروری ہے۔
‘اس ایجنسی نے پانچ نکات ہمارے سامنے رکھے۔ تقریبا پانچ پر ہی جواب دے دیا مگر کراچی طیارہ حادثہ ہوگیا اور اس میں پائلٹ کی غلطی سامنے آئی اور 100 جانیں ضائع ہو گئیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سلسلہ 2008 کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ جب معاملے کا جائزہ لیا تو 618 لوگوں کی ڈگریاں جعلی تھیں اور 17 پائلٹ اور 96 انجینئرز کی بھی ڈگریاں جعلی تھیں۔
‘حقائق سے پردہ اٹھاتا ہوں تو ہمارے دوست ناراض ہو جاتے ہیں۔ اداروں کو ٹھیک کرنا اور سابق گندگی کو صاف کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔’

