سنتھیا رچی کے ویزے پر فیصلہ پانچ دن میں کیسے؟
پیپلز پارٹی کی امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، فریقین بدھ کو دن ایک بجے وزارت داخلہ میں پیش ہوں۔
عدالت نے جواب کی نقل آئندہ جمعے کو پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ عدالت میں پیش ہونے اور بتایا کہ عدالت نے وزارت کو دونوں فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی ، طیب شاہ نے بتایا کہ سنتھیا رچی نے جواب جمع کروانے کیلئے وقت مانگا ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے، دونوں فریقین بدھ کو دن ایک بجے وزارت داخلہ میں پیش ہوں ، چیف جسٹس نے جواب کی کاپی آئندہ جمعہ کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔
عدالت نے سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی۔
سنتھیارچی بھی اپنے وکیل کے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ کو چیف جسٹس صاحب نے کہا آپ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس ریاست میں قانون کی پاسداری ہے،آپکے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے،آپ نے انکو تاریخ کس لیے دی ہے، وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ سنتھیا کا ویزہ ایکسپائر ہوا ہے یہ نہیں ہوا،اسکا ریکارڈ بھی آپکے پاس موجود ہے، سنتھیا سی ٹی ڈی کے ساتھ پھر رہی ہے، پی ٹی ایم کی انکوائری کر رہی ہے، یہ انکوائریاں کیس قانون کے تحت کر رہی ہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ رچی کہتی ہیں کہ میں ڈاکومنٹریز بنا رہی ہوں، کیا تم بزنس کر رہی ہو؟،بزنس ویزا تو تمہارے پاس نہیں ہے، ویزا کی رجیم واضع طور پر ڈیفائن کی گئی ہیں۔
سنتھیا پاکستان کی ووٹر نہیں ہے، یہ کس بنیاد پر سیاسی بیانبازی کر رہی ہیں۔
سنتھیارچی کے وکیل عمران فیروز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منسٹری کے پاس دونوں پارٹیز بدھ کو پیش ہوں گی، اور اپنا جواب فائل کریں گے، دونوں جواب سننے کے بعد منسٹری ایک اسپیکنگ آرڈر پاس کرے گی، جس کی کاپی کورٹ میں پیش کی جائے گی۔
سنتھیا رچی کے وکیل نے کہا کہ وزارت داخلہ نے صرف اپنا موقف پہلے سے دائر کر رکھا ہے،
کورونا وائرس کے دوران ایکسپائر ہونے والے تمام ویزے 31 اگست تک توسیع کر رکھے ہیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ اصل شکایت ہی یہ ہے کہ سنتھیا کا ویزا ختم ہو چکا ہے، اور اس کے با وجود پاکستان میں موجود ہیں۔ منسٹری کی جانب سے دی گئی ویزوں میں توسیع سنتھیا پر بھی لاگو ہوتی ہے، 31 اگست تک سنتھیا ایک ویلڈ ویزا پر پاکستان میں موجود ہیں۔

