اہم

نائن الیون کیس میں بڑا موڑ، خالد شیخ محمد کا اہم اعتراف ناقابلِ قبول قرار

اگست 28, 2026

نائن الیون کیس میں بڑا موڑ، خالد شیخ محمد کا اہم اعتراف ناقابلِ قبول قرار

گوانتانامو بے: نائن الیون حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کے خلاف امریکی مقدمے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ایک امریکی فوجی جج نے فیصلہ دیا ہے کہ 2007 میں ایف بی آئی کو دیے گئے خالد شیخ محمد کے اعترافی بیانات رضاکارانہ نہیں تھے، اس لیے انہیں مقدمے میں بطور ثبوت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

استغاثہ ان بیانات کو خالد شیخ محمد کے خلاف سزائے موت کے مقدمے میں انتہائی اہم ثبوت قرار دیتا رہا ہے۔ تاہم فوجی جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ ایف بی آئی کو دیے گئے بیانات آزادانہ اور رضاکارانہ طور پر دیے گئے تھے۔

جج کے مطابق 2007 میں گوانتانامو بے میں ہونے والی پوچھ گچھ کے وقت خالد شیخ محمد پر سی آئی اے کی جانب سے کی گئی سابقہ سخت تفتیش، نفسیاتی دباؤ اور جبر کے اثرات کا تسلسل موجود تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایف بی آئی اہلکاروں نے انہیں واضح طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ انہیں خاموش رہنے اور وکیل سے مشورہ کرنے کا حق حاصل ہے اور ان کے بیانات عدالت میں ان کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

خالد شیخ محمد کو 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں بیرونِ ملک سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں انتہائی سخت تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔ 2006 میں انہیں گوانتانامو بے منتقل کیا گیا، جہاں اگلے سال ایف بی آئی نے ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کی۔

خالد شیخ محمد پر الزام ہے کہ وہ 11 ستمبر 2001 کے ہائی جیکنگ حملوں کے مرکزی منصوبہ ساز تھے۔ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون اور پنسلوانیا میں ہونے والے ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عدالتی فیصلے سے مقدمے کی کارروائی مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے، خصوصاً اگر استغاثہ اسے اپیل میں چیلنج کرتا ہے۔ چیف پراسیکیوٹر ریئر ایڈمرل ایرون سی روگ نے کہا ہے کہ قانونی ٹیم فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد اپیل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

فوجی جج نے اسی ہفتے مقدمے کی سماعت 5 جون 2028 سے شروع کرنے کی تاریخ مقرر کی تھی۔ نائن الیون کیس 2012 میں ملزمان پر فردِ جرم عائد ہونے کے بعد سے طویل پری ٹرائل کارروائیوں میں الجھا ہوا ہے، جبکہ تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے بیانات کی قانونی حیثیت مقدمے کا ایک بنیادی تنازع رہی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے