پاکستان

بالائی علاقوں میں بارش اور سیلابی ریلوں میں سڑکیں بہہ گئیں

ستمبر 1, 2020

بالائی علاقوں میں بارش اور سیلابی ریلوں میں سڑکیں بہہ گئیں

پاکستان کے بالائی علاقے دو دن سے شدید بارش اور سیلابی ریلوں کے زد میں ہیں۔ چترال، دیر، شانگلہ، بشام اور مانسہرہ کے مختلف علاقوں میں کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔

مانسہرہ سے صحافی سید نعمان شاہ کے مطابق ضلع مانسہرہ سمیت اپر ہزارہ ڈویژن کے اضلاع میں 2 روز سے جاری بارشوں سے دریائے کنہار، دریائے سرن، دریائے سندھ سمیت برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ کاغان، شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند ہو گئیں۔

مانسہرہ کے مختلف دیہات میں سیلابی ریلوں کی زد میں آکر ایک خاتون سمیت تین افراد بہہ گئے۔ شنکیاری کے قریب سم کے مقام پر دریائے سرن میں پھنس جانے والے پانچ افراد کو ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا۔ ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے ضلع بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا ہے۔

مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ کے نواحی علاقہ بیلہ منور میں پل ٹوٹنے اور لکڑیاں پکڑتے ہوئے عبدالمجید اور اس کی بیوی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

پولیس تھانہ کاغان کے مطابق شوہر کی لاش مہانڈری کے مقام پر نکال لی گئی ہے جبکہ بیوی کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جانب تھانہ بفہ کی حدود ٹانڈہ کے مقام پر بشیر ولد کالو نامی ایک نوجوان دریائے سرن کے سیلابی ریلے میں بہہ گیا جس کی لاش تاحال نہیں ملی۔

شاہراہ کاغان اور شاہراہ قراقرم میں متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ سڑکوں پر آمدورفت معطل ہو گئی۔

مسلسل بارشوں سے اپر ہزارہ کے دریاؤں اور برساتی نالوں میں شدید طغیانی ہے دریا کنہار، دریائے سندھ اور سرن میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

ضلع کوہستان، بٹگرام، تورغر اور ضلع مانسہرہ میں دریا کنارے آبادیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ بارشوں سے علاقہ پکھل کے کے کئی مقامات پر زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا اور سیلابی ریلوں نے کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے