متفرق خبریں

لاشوں کے سرحد پار کرنے کا سفر

ستمبر 9, 2020

لاشوں کے سرحد پار کرنے کا سفر

عبدالجبارناصر

مقبوضہ کشمیر کے ضلع لداخ کے نواحی علاقہ بیوقدنگ سے 26 اگست کو لاپتہ ہونے والی تین بچوں کی ماں 30 سالہ خیر النساء زوجہ غلام عباس کی لاش بلتستان کے ضلع گنگچھے کے علاقہ چھوربٹ تھوقموس کے مقا م پر دریائے شیوک سے دو روز قبل ملی ہے ۔ علاقے میں دریا اور ایل او سی کے دونوں اطراف عزیزو اقارب آباد ہیں جن کو خونی لکیر لائن آف کنٹرول (ایل اور سی) نے جدا کیا ہوا ہے ۔ لداخ سے اطلاع ملنے کے بعد بلتستان میں 24 اگست سے عزیز و اقربا تلاش میں تھے ۔

مقامی سوشل میڈیا اور ذرائع کے مطابق اہل علاقہ نے میت کو دریا سے نکال کر نماز جنازہ پڑھنے کے بعد میت اسسٹنٹ کمشنر چھوربٹ کے حوالے کردی ہے ، جنہوں نے لاش کو ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچا دیا ، جہاں سے میت سکردو پہنچادی گئی ہے اور لاہور واہگہ بارڈر کے راستے میت کو لداخ لے جانے پر غور کیا جارہاہے ۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مرحوم خاتون کے ورثاء کا گائوں لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) کی دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں چھوربٹ فرانو کے مقام سے صرف دو سے تین کلومیٹر دور ہے۔

مقامی سوشل میڈیا کے مطابق اگر میت واہگہ بارڈر کے راستے ورثاء تک پہنچانے کی کوشش کی گئی تو میت پہلے راولپنڈی ، پھر لاہور ، وہاں سے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مختلف شہروں کے راستے ورثا تک پہنچادی جائے گی ، ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر 5ہزار کلومیٹر کافاصلہ طے کرنا ہوگا اور اس سفر میں مزید کئی دن بلکہ ایک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے ۔ اس کی بجائے دونوں ممالک کے حکام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میت کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی )سے ورثا کے حوالے کیا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان کےزیر انتظام گلگت بلتستان کے ضلع استور کی وادی گریز (قمری منی مرگ)تحصیل شونٹر کا 8 سالہ معصوم بچہ عابد شیخ والد نزیر شیخ 8 جولائی 2019ء کو اسکول سے گھر جاتے ہوئے دریائے کشن گنگا میں ڈوب گیا اور 9 جولائی کو گائوں سے تقریباً 20 کلومیٹر دور وادی گریز اچھورا(مقبوضہ کشمیر )میں دریائے کشن گنگا کے کنارے سے لاش ملی اور مقامی افراد نے لاش نکالنے کے بعد انسانی ہمدردی اور جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کفن اور دیگر انتظامات کئے، عوام اور مقامی انتظامیہ کا جذبہ قابل تحسین تھا۔

دوسری جانب ورثا اور سوشل میڈیا پر دو طرفہ آواز اٹھائی گئی جس کو پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے سنا اور 11جولائی کو بچے کی لاش انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے راستے ورثا کے حوالے کی گئی ، جو قابل تحسین عمل تھا اور یہ غالباً 73 سال میں پہلی بار ایسا ہوا۔

ابتدا میں عابد شیخ شہید کی میت بھی واہگہ بارڈر یا آزاد کشمیر ٹٹوال سے ورثا تک پہنچانے پر غور کیا ، مگر دونوں حکومتوں کو رحم آیا۔

آج بھی خیرالنساء کی میت اور اس کے تین معصوم بچے رحم کے طالب ہیں ۔ دونوں ممالک کی حکومتیں میت اور ورثاء کو مشکل میں ڈالنے کی بجائے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میت کو ایل او سی سے ورثا کے حوالے کرنے کے انتظامات کریں تو لاش کا سفر کم اور ورثا کو آسانی ہوگی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے