فوج پر تنقید، صحافی بلال فاروقی عدالت میں پیش
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے فوج پر تنقید کے الزام میں گرفتار کیے گئے صحافی بلال فاروقی کو جمعے کی رات گئے رہا کیا گیا اور وہ سنیچر کی صبح مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے۔
بلال فاروقی پر مقدمہ درج کیے جانے کے بعد ان کو گھر کے سامنے سے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے زبردستی اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور بعد ازاں میڈیا کو بتایا گیا کہ ان کو پولیس نے گرفتار کیا۔
جمعے کو رات گئے صوبہ سندھ کے وزیر اعلی کے مشیر مرتضی وہاب نے ٹویٹ کیا کہ صحافی بلال فاروقی کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ عدالت میں پیش ہوں گے۔
بلال فاروقی کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایف آئی آر ڈیفنس تھانے میں جاوید خان ولد احمد خان نامی شخص کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔
مقدمہ دو دن قبل نو ستمبر کو درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں مدعی نے بتایا ہے کہ وہ لانڈھی میں ایک فیکٹری میں مشین آپریٹر ہیں، 9 ستمبر کو بارہ بجے وہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی میں فیز ٹو ایکسٹییشن میں ماسٹر جوس میں کسی کام سے گئے تھے اور بارہ بجے کے قریب انھوں ںے اپنا فیس بک اور ٹوئٹر چیک کیا تو بلال فاروقی نام کے اکاؤنٹ سے پاکستان کی فوج کے خلاف اور مذہبی منافرت پر مبنی پوسٹ نظر آئیں۔
مدعی نےایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ بلال نے پاکستان ’آرمی سے بغاوت کرنے کا مواد شائع کیا‘ جبکہ وہ پہلے بھی ’تواتر سے اشتعال انگیز مواد اور تصاویر شائع کرتے رہے ہیں‘۔
ایف آئی آر کے مطابق بلال نے اپنی پوسٹس کے ذریعے ’پاکستان کی افواج کو بدنام کیا اور یہ پوسٹس وطن دشمن اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، لہٰذا میں رپورٹ کرنے آیا ہوں قانونی کارروائی کی جائے۔‘
یہ مقدمہ 500 اور 505 پی پی سی کے تحت پاکستان فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کے الزام میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں پروینشن آف الیکٹرانک کرائم (پیکا) کی دفعہ 11 اور 2 بھی شامل کی گئی ہیں۔

