مشیر خزانہ حفیظ شیخ کرپشن کیس میں تفتیش کے لیے پیش ہوں: نیب
پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب نے 11 ملین ڈالر کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی مشیر خزانہ محمد حفیظ شیخ کو ایک بار پھر طلب کر لیا ہے۔
کراچی میں نیب کے دفتر نے وفاقی مشیر خزانہ محمد حفیظ شیخ کو اس سے قبل 20 نومبر کو طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد انہیں یکم دسمبر کو پیش ہونے کا کہا گیا تھا۔
حفیظ شیخ پر الزام ہے کہ انہوں نے پچھلے دور حکومت میں بطور وزیر خزانہ ایک نجی کمپنی کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر 11.125 ملین ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔
نیب کی جانب سے کسٹمز کے آن لائن کلیرنس سسٹم پیکس میں گھپلوں کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اس سلسلے میں سابق چیئرمین ایف بی آر سلمان صدیق اور سابق ایڈیشنل کلکٹر کسٹم عاشر عظیم کو بھی تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی آرڈینینس 1999 کے تحت کی جا رہی ہیں۔
نیب کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق غیرملکی کمپنی ایجلیٹی کو ٹھیکے دینے کی مد میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری کردہ طلبی کے نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ ’بطور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے پاس اس انکوائری سے متعلق خاصے ثبوت اور معلومات ہیں جو وہ نیب کے سامنے پیش کریں اور ساتھ ہی اپنے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع کروائیں۔‘

