ولی خان نے جنرل ضیا سے ملاقات میں اسلامی نظام لانے پر کیا کہا؟
ایک تقریر میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان نے جنرل ضیا الحق سے اپنی ملاقات کا احوال ان الفاظ میں بیان کیا:
پشتو سے ترجمہ: ‘سیاست دانوں سے ایک ملاقات میں جنرل ضیا الحق نے ہماری باتیں سنیں تو بولے کہ آپ ساری باتیں چھوڑیں، آج نظام مصطفیٰ کی باتیں کریں گے۔ جنرل کو دیکھیں اور نظام مصفطیٰ کی باتیں سنیں۔
میں نے کہا کہ نظام مصطفیٰ لانا چاہتے ہیں؟ بولے، جی بالکل۔
میں نے پوچھا فوری طور پر نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ تو پھر کس کے انتظار میں ہیں؟ نافذ کر دیں۔ مارشل لا لگایا ہوا ہے تو ایک قانون منظور کرا دیں اور اسلامی نظام نافذ کر دیں۔ مگر آپ ایسا نہیں کریں گے۔
ضیا الحق کے ہوتے ہوئے اسلامی نظام اس لیے نافذ نہیں کیا جا سکتا کہ سب سے پہلے تو یہ سوال ہوگا کہ کس کھاتے میں امیرالمومنین بنے ہوئے ہیں؟
ہماری تاریخ میں کوئی ایک ایسا واقعہ بتا دیں جہاں مسلمانوں کا کمانڈر انچیف خلیفہ یا امیر المومنین ہو۔
خالد بن ولید تھے، وہ خلیفہ نہیں تھے۔ عبیدہ بن الجراح تھے، وہ بھی خلیفہ نہیں تھے۔ عمر بن وقاص تھے، خلیفہ نہیں رہے۔
جھگڑا تو اس بات پر بھی ہوگا پھر۔ خیر یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ جنرل صاحب! آپ سے چند باتیں پوچھنا بھی چاہتے ہیں۔ اسلام اگر نافذ کر دیا تو پھر آپ کو بھی پتہ لگ جائے گا۔
اسلام کے نفاذ کے بعد سب سے پہلے تو آپ کی وردی اتاری جائے گی۔ اس لیے کہ وہ قرآن کی آیت پڑھیں گے جس میں کہا گیا ہے کہ جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان میں سے ہوگا۔ تو یہ وردی تو نصاریٰ کی ہے۔
اس کے بعد آپ کے کندھوں پر لگے یہ جرنیلی کے پھول اتارے جائیں گے، اسلام میں طبقاتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کہ یہ پہلے لفٹین بھرتی ہوگا، پھر کپتان بنے گا اور پھر اس کے بعد مزید ترقی کرے گا۔
نہیں، اسلام میں تو سب سپاہی ہیں، سب جہاد پر جائیں گے اور ایک کمانڈر انچیف ہوگا۔ اسلام طبقاتی امتیاز نہیں مانتا۔
اور یہ جو تمغے سینے پر لگائے ہوئے اور یہ جو انگریز کی خدمت کی ہوئی ہے اس کا بھی پھر حساب ہوگا۔
ان سب باتوں کو تو چھوڑ دیں۔ اصل بات کچھ اور ہے۔
جنرل صاحب! آپ کی بیرک پر لکھا ہوا ہے جاہدو فی سبیل اللہ ۔
آپ اس سبیل اللہ کے معنیٰ سمجھتے ہیں یا نہیں؟ شاید ان کو یہ سبیل وہ قصہ خوانی بازار میں پانی بیچنے والوں کی آواز جیسے لگتی ہوگی جو سبیل کی آوازیں لگاتے ہیں۔
سبیل اللہ کا معنیٰ یہ ہے کہ جو تنخواہ آپ لیتے ہیں یہ بیت المال کو چلی جائے گی۔ اور یہ جس 12 کمروں والے گھر میں رہتے ہیں یہ بھی بیت المال کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یہ بجلی، گیس، پانی اور ٹیلی فون جو مفت ہے، یہ سب بھی بیت المال میں جمع کر دیے جائیں گے۔
جنرل صاحب! یہ سارے نوکر بھی بیت المال کو چلے جائیں گے۔ یہ باہر باغ میں جو مالی کام کر رہے ہیں یہ بھی بیت المال کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ اور یہ جو لاکھوں روپے کی کار جس میں آپ گھومتے پھرتے ہیں یہ بھی بیت المال میں جمع کر دی جائے گی۔ اور یہ مفت کا پٹرول اور مفت کا ڈرائیو بھی بیت المال کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
پھر اس کے بعد آپ اپنے گھر کے کپڑے پہن لیں گے، اپنی جیب سے کھانا کھائیں گے اور اللہ کے راستے میں جنگ کے لیے نکلیں گے تب آپ اسلامی مجاہد سمجھے جائیں گے۔
آخر میں ہنس کر جنرل صاحب سے پوچھا کہ یہ اسلام آپ کے لیے قابل قبول ہوگا؟
ایسا اسلام کس کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے؟ یہ سب فراڈ ہم اور آپ کے لیے ہے۔

