پاکستان24

بجلی بحال کر دی، بریک ڈاؤن کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی: حکومت

جنوری 10, 2021

بجلی بحال کر دی، بریک ڈاؤن کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی: حکومت

پاکستان کے وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ بریک ڈاؤن کے بعد ملک کے بڑے شہروں میں بجلی جزوی بحال کی جا چکی ہے اور گدو پاور پلانٹ کے قریب خرابی کی وجہ تلاش کی جا رہی ہے، دھند کی وجہ سے تاحال کامیابی نہیں ملی۔

اتوار کو اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں میڈیا کو بریفنگ میں وزیر توانائی نے بتایا کہ سنیچر کی رات جس وقت خرابی پیدا ہوئی سسٹم میں دس ہزار 302 میگاواٹ چل رہے تھے جو آؤٹ ہو گئے۔

بریک ڈاؤن کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال پر توانائی کے وزیر نے کہا کہ اس کی انکوائری کرائی جائے گی اور یہ سسٹم کا مسئلہ ہے۔ پوری دنیا میں بجلی کے بریک ڈاؤن ہوتے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کے ادوار میں آٹھ ایسے واقعات ہوئے جب ملک میں بریک ڈاؤن ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’رات گیارہ بج کر 41 منٹ پر گدو پاور پلانٹ میں خرابی پیدا ہوئی اور اس کے بعد سسٹم نے خود کو بند کرنا شروع کر دیا۔‘

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ بجلی کے نظام کا اںحصار تین چیزوں پر ہوتا ہے۔ ’پیدوار، ترسیل اور تقسیم۔ اگر ترسیل کا نظام درست نہ ہو تو بجلی کی پیداوار سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔‘

شبلی فراز نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں بجلی کی پیداوار کے لیے جنریشن پلانٹس لگا دیے گئے مگر ترسیل کا نظام درست نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترسیل کا موجودہ نظام 25 ہزار میگاواٹ تک بجلی اٹھا سکتا ہے۔

وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 49 ارب روپے ٹرانسمیشن سسٹم پر لگائے۔

ان کے مطابق ’ن لیگ کی حکومت میں اٹھارہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم نہیں اٹھا سکتا۔ ہماری حکومت نے 24 ہزار میگاواٹ تک اپ گریڈ کیا ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے