تحریک انصاف کی رکن اسمبلی کا جھگڑا ہائیکورٹ پہنچ گیا
پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب کے اسلام آباد میں ہمسائیوں سے جھگڑے کا معاملہ ہائیکورٹ پہنچ چکا ہے جہاں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے کو اس طرح کے کیس میں استعمال کیا جانا افسوس ناک ہے۔
کنول شوزب نے ہمسائیوں سے جھگڑے کے بعد ڈرایا دھمکایا تھس جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو جسٹس آف پیس نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔
کنول شوزب نے مقدمے کے اندراج کے حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
جمعرات کو کنول شوزب کے وکیل شاہ خاور نے شہری کے ساتھ معاملہ حل کرنے پر رضا مند ظاہر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کچھ مہلت دی جائے تو اس ایشو کے حل کے لیے تیار ہیں۔
عدالت نے کنول شوزب کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے روکنے کے حکم میں 27 جنوری تک توسیع کر دی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے ایف آئی اے نے جس طرح اختیار کا غلط استعمال کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت ابھی تک اس معاملے میں کوئی آرڈر جاری کرنے سے تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہم نے ان کے خلاف، انہوں نے ہمارے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی، ہم نے ایف آئی اے میں بھی درخواست دی تھی جو کیس یہاں زیر التوا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے ہتک عزت کے معاملہ کو کیسے دیکھ سکتا ہے اس کے لیے تو الگ قوانین ہیں۔
جسٹس من اللہ نے کہا کہ آج تک ایف آئی اے نے عام آدمی کے اس طرح کے کون سے ایشو کو حل کیا، ممبر قومی اسمبلی کی وجہ سےایف آئی اے نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
عدالت کے مطابق اگر ایف آئی اے نے ہتک عزت کے کیس دیکھنا شروع کردیے تو باقی کام رہ جائیں گے۔
وکیل نے کہا کہ ہتک عزت جس میں سائبر ایشو ہو وہاں ایف آئی اے مداخلت کر سکتی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اچھا نہیں لگتا بہتر یہی ہے کہ آپ اس معاملے کو حل کریں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ کنول شوزب کیک اور پھول لے کر ان کے پاس گئیں، ہم معاملے کا حل چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دو ہمسائیوں کے درمیان کا معاملہ ہے اچھا نہیں ہوا کہ ایشو یہاں تک پہنچ گیا۔
کنول شوزب کے خلاف درخواست گزار نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں جو عدالت نے ان کو ہدایت کی۔
عدالت نے فریقین کو مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔

