احمد عمر شیخ کی رہائی کے لیے جیل توڑنے کی کوشش میں 97 گرفتار کیے: حکومت
سپریم کورٹ میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کے مقدمے کی سماعت کے دوران احمد عمر شیخ کے جیل سے دہشتگردوں کے ساتھ روابط اور ملزم کی رہائی کے لیے جیل توڑنے کی کوششوں کا بتایا گیا ہے۔
پیر کو سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ احمد عمر شیخ سے جیل میں سات موبائل سمیں برآمد ہوئیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مطابق برآمد کی گئی سمز میں سے ایک برطانیہ کی تھی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے پوچھا کہ جیل میں موبائل استعمال کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جیل سے دہشتگردوں کے ساتھ روابط ہونا سندھ حکومت کی ناکامی ہے، احمد عمر شیخ کی جیل سے کی گئی کالز مشکوک افراد کو تھیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے ملزمان کی رہائی کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احمد عمر شیخ کی رہائی کے لیے جیل توڑنے کی کوشش میں 97 افراد گرفتار ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ احمد عمر شیخ ملک دشمنوں کا ایجنٹ ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ احمد عمر کو حراست میں رکھنے کے حکمنامے میں دشمن ایجنٹ ہونے کا ذکر ہی نہیں، سندھ حکومت چاہتی ہے کہ احمد عمر شیخ کو عدالت ملک دشمن قرار دے؟
سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیل پر اٹارنی جنرل، تمام ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت نے احمد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کی رہائی سے متعلق ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو تحویل میں رکھنے کے تین حکمنامے اپنی مدت پوری کر چکے۔
جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملزمان کو حراست میں رکھنے کا کوئی حکم موجود نہیں تو حکم امتناع کس بات پر دیں؟ کسی کو تاحیات حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے پوچھا کہ سندھ حکومت کے پاس معلومات ہیں تو کیس کیوں نہیں بنایا؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ انٹیلی جنس مواد ہے لیکن عدالت میں کیس ثابت نہیں کر سکیں گے۔
عدالت نے مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزمان نے رہائی کے باوجود حراست میں رکھے جانے کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

