پاکستان24

سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریداری دبئی میں ہو رہی ہے: اٹارنی جنرل

فروری 17, 2021

سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریداری دبئی میں ہو رہی ہے: اٹارنی جنرل

پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اگر عدالت الیکشن کمیشن کو کہے گی تب ہی کمیشن والے اقدامات کریں گے ورنہ نہیں۔

بدھ کو اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سینیٹ انتخابات میں لین دین سے متعلق الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ اسٹیٹ بنک سے رقم کی منتقلی دیکھنے کا کہا ہے، جبکہ اس بار اسٹیٹ بنک سے پیسہ ٹرانسفر نہیں ہوگا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

اٹارنی جنرل کے مطابق اس بار سینیٹ الیکشن میں ادائیگیوں کا طریقہ کار بدل چکا ہے، اب ہنڈی کے ذریعے دبئی میں بھی ادائیگیاں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ بتا  سکتے ہیں کہ اسلام آباد میں بھی کچھ لوگ نوٹوں سے بھرے بیگ لیے بیٹھے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹوں کی خریدوفروخت کا ٹھوس ثبوت آیا تو ضرورکارروائی کریں گے۔

ایک موقع پر جب خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے کہا صوبوں کی متناسب نمائندگی کا ایوان بالا عکاس ہونا چاہیے تو جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے پھر سینیٹ کے لیے بھی خواتین اور اقلیتوں کی طرز پر فہرستیں منگوالیں اور آزاد سینیٹرز کا الیکشن کروادیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل شرجیل نے دلائل میں کہا سینیٹ الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کو روکنے کے لئے نگران کمیٹی قائم کی ہے، مختلف شعبوں سے افسران ویجیلنس کمیٹی میں شامل ہونگے، ہر امیدوار سے ووٹوں کی خریدو فروخت نہ کرنے کا بیان حلفی لیا جائے گا،ان لائن شکایات سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، ستمبر سے اب تک 11 سو سے زائد شکایات موصول ہوئیں، ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گی،کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جاسکتے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج تک سینیٹ الیکشن میں جتنے ووٹوں کی خریدوفروخت ہوئی اس پر کمیشن نے کیا کارروائی کی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے موقف اپنایا کہ اس حوالے سے اب اقدامات کر لیتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اب کر لیتے ہیں پہلے کیوں نہیں کیے؟ آپ ایک آئینی ادارہ ہیں اور مکمل اختیارات رکھتے ہیں لیکن آپ آرام سے بیٹھے ہیں،آپ پورے ملک پر حکومت لے کر آتے ہیں اور آپ اسکو نارمل لے رہے ہیں، آپ ہمارے سامنے بس اپنا ایکٹ پڑھ دیتے ہیں، کیا ووٹوں کی خریدوفروخت سے ہونے والے نتائج قانونی تھے یا غیرقانونی؟ مان لیا ووٹ خفیہ ہے لیکن اگر متناسب نمائندگی نہ ہو تو پھر کیا ہوگا، الیکشن کمیشن کیسے متناسب نمائندگی کو یقینی بنا سکتا ہے،ہم الیکشن کمیشن کو بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ کے اختیارات کیا ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ اگر ایک بندہ اے کو ووٹ دیتا ہے لیکن وہ بی کے نام نکلتا ہے اور وہ دعویٰ کرے کہ اس کا ووٹ تبدیل کیا گیا ہے تو کیا عدالت اسکا ووٹ منگوا سکتی ہے؟الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے جس کے پاس وہ اختیارات ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں،ایسے نتائج ایک دو دن کی بات نہیں آئندہ الیکشن تک اس کو جھیلنا پڑے گا، اگر متناسب نمائندگی نہ ہوگی تو سارا نظام جیم ہو جائے گا،الیکشن کمیشن ووٹ چوری ہونے ہی کیوں دے،الیکشن کمیشن نے ووٹ کو تحفظ دینا ہوتا ہے،اگر متناسب نمائندگی نہ ہو تو سسٹم کیسے چلے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس وہ اختیارات ہیں جو سپریم کورٹ کے پاس ہیں،آپ کسی کو بھی نوٹس جاری کر سکتے ہیں،آپ کو ووٹ چوری ہونے سے پہلے اسکو روکنا چاہیے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا عدالت ووٹ طلب کر سکتی ہے لیکن یہ تعین نہیں ہو سکے گا کہ اسکا ووٹ کونسا ہے،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے اسٹیٹ بنک حکام کو ہدایات جاری کی ہیں ووٹوں کی خریداری کے دوران پیسوں کا لین دین نہ ہونے لیکن آجکل جدت آچکی ہے،،میرے علم میں نیا طریقہ سامنے آیا ہے،،اب ووٹوں کی خریدوفروخت کیلئے کمیشن ایجنٹس سامنے آچکے ہیں،،ایجنٹس ووٹر کو سامنے لائے بغیر ایک فریق سے پیسے لیکر دوسرے فریق کو پہنچا دیتے ہیں،،پیسہ دبئی منتقل کرنے کا ریٹ سب سے زیادہ ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں مزید کہا بار کوڈ لگانے سے ووٹر کی شناخت بھی خفیہ رہے گی،اس بارکوڈ کا الیکشن کمیشن کے علاوہ دنیا میں کسی کو کوئی علم نہیں ہوگا،بیلٹ پیپر اصلی ہے یا نقلی اس کا کیسے پتا چلایا جاتا ہے؟ بیلٹ پیپر پر بھی پرنٹنگ کے دوران حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہوں گے،ووٹ اگر چوری ہو تو الیکشن کمیشن کارروائی کرسکتاہے،سیکریسی کا اصل مقصد شفافیت کو برقرار رکھنا ہے،لوگ اسلام آباد میں پیسوں سے بھرے بیگز کے ساتھ بیٹھے ہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے،اگر کسی نے قتل کے پیسے لیے اور قتل نہیں کیا تو وہ خود قتل ہوجاتا ہے،ووٹ کے لیے جو پیسے لیتا ہے اسے وہ اپنا کام پورا کرنا ہوتا ہے،الیکشن خفیہ کا مطلب بیلٹ پیپر خفیہ ہونا ہے،سیکریسی پولنگ کے دن کی ہوتی ہے،عدالت جیسے جدید ٹکنالوجی استعمال کررہی ہے الیکشن کمیشن بھی ایسا کرسکتا ہے،الیکشن کمیشن مخصوص بار کوڈ بیلٹ پیپرز دے سکتا ہے،اس بار کوڈ سے صرف الیکشن کمیشن ہی ووٹ کی شناخت کرسکے گا،ووٹ کو خریداری کے لئے منشیات اور دیگر طریقوں سے کمایا گیا پیسہ استعمال ہو رہا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے ایک موقع پر بتایا کہ عدالت عظمیٰ کے تحفظات ختم کرنے کے لئے ای سی پی کے اختیارات میں اضافہ کی ضرورت ہے جس کے لیے آئینی ترمیم کرنی پڑے گی۔

خیبر پختونخواہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا سو فیصد ووٹ کی رازداری کا کوئی تصور نہیں۔صدارتی ریفرنس میں اٹارنی جنرل،الیکشن کمیشن کے وکیل اور ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے اپنے دلائل مکمل کر لئے ہیں۔کیس کی سماعت کل دن بارہ بجے دوبارہ ہوگی۔

کیس کے اختتام پر چیف الیکشن کمشنر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر ووٹوں کی خریدوفروخت کے ٹھوس ثبوت فراہم کیے گئے تو ضرور کارروائی کریں گے،عدالت آئین کی تشریح کردے ہم عمل در آمد کریں گے۔

 

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے