پاکستان24

اوپن بیلٹ پر رائے ہوگی فیصلہ نہیں: سپریم کورٹ

فروری 24, 2021

اوپن بیلٹ پر رائے ہوگی فیصلہ نہیں: سپریم کورٹ

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہوں گے یا خفیہ رائے شماری ہوگی؟ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر کل سماعت مکمل ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

بدھ کو چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہمارے سامنے تین سوالات ہیں، کیا سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں یا نہیں؟ کیا متناسب نمائندگی سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے زریعے ہو سکتی ہے؟ کیا آئین کے تحت ہونے والے انتخابات خفیہ ہوتے ہیں؟ بیلٹ اوپن ہوگا یا خفیہ یہ تعین کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، اعلیٰ عدلیہ پارلیمنٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کہتا ہے ووٹنگ خفیہ ہوگی تو پھر خفیہ ہی ہوگی، بات ختم۔

سندھ بار کے وکیل صلاح الدین احمد نے دلائل میں کہا کہ حکومت نے صدارتی ریفرنس کے ذریعے اپنی زمہ داری کا بوجھ عدلیہ پر ڈال دیا، حکومت عدلیہ سے کھلواڑ کر رہی ہے، ریفرنس اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے۔ اٹارنی جنرل عدالت سے رائے دینے کے بجائے اوپن بیلٹ کی استدعا کرتے رہے۔ ن لیگ،پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور سندھ بار کے وکلاء نے دلائل مکمل کر لیے۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے کی۔

سماعت کے آغاز پر جے یو آئی کے وکیل نے روسٹرم پر آکر موقف اختیار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کو شاید سمجھنے میں غلطی ہوئی، میں سپریم کورٹ میں اپنے دلائل دوں گا۔ چیف جسٹس نے کہا ٹھیک ہے ہم آپ کو بھی سن لیں گے۔

چیف جسٹس نے رضا ربانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ اپنے دلائل کا براہ راست اہم نقطے سے آغاز کریں، بتائیں کیا سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں یا نہیں؟ رضا ربانی نے دلائل میں کہا ووٹ کی شناخت ووٹر کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے، بیلٹ خفیہ نہیں لیکن جب بیلٹ پیپر ووٹر کے ہاتھ میں آتا ہے تو اس کی سکریسی شروع ہوجاتی ہے۔ ریاستی آفسران بھی نہیں دیکھ سکتے کہ ووٹر نے کس کو ووٹ دیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا آپ کی دلیل صرف قومی اسمبلی کے چناؤ کے لیے کارگر ہے، قومی اسمبلی کا ووٹ فری ہوتا ہے،فری ووٹ کا مطلب ووٹر کی آزادی ہے، سینٹ کے ووٹ کے لیے فری نہیں کہا گیا۔رضا ربانی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں متناسب نمائندگی سیاسی پارٹیوں کی ہوتی ہے،سینٹ میں متناسب نمایندگی صوبوں کی ہوتی ہے۔رضا ربانی نے آخر میں کہا میں نے ابھی دلائل مکمل نہیں کیے لیکن اگر عدالت کہے تو روسٹرم چھوڑ دیتا ہوں. چیف جسٹس نے کہا آپ کا بہت شکریہ. رضا ربانی نے دلائل میں کہا میں آخر میں کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں،عدالت میری گزارشات کو زہن میں رکھے،صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ نے صرف رائے دینی ہے. چیف جسٹس نے کہا ہم صرف رائے ہی دیں گے. رضا ربانی نے کہا کہ عدالت اختیارات کی تکون کو مدنظر رکھے۔ عدالت نے صرف یہ رائے دینی ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں یا نہیں، اگلا کام پارلیمنٹ کا ہے، پارلیمنٹ نے طے کرنا ہے سینیٹ انتخابات میں ووٹ اوپن ہوگا، قابل شناخت ہوگا یا خفیہ ہوگا،پارلیمنٹ نے تعین کرنا ہے سینیٹ انتخابات کیلئے آئینی ترمیم درکار ہے یا قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے،اگر سپریم کورٹ نے کہا سینیٹ انتخابات آئین کے تحت نہیں ہوتے تو پھر صدارتی آرڈیننس نافذ العمل ہو جائے گا،صدارتی آرڈیننس کی معیاد صرف ایک سو بیس دنوں کیلئے ہے،اگر پارلیمنٹ نے آئین یا قانون میں ترمیم نہیں کی تو پھر یہ کہا جائے گا سینیٹ انتخابات عارضی قانون کے تحت کرائے گئے۔

چیف جسٹس نے کہا ہمارے سامنے صدارتی آرڈیننس کا مقدمہ نہیں ہے. رضا ربانی نے کہا کہ عدالت فیصلے کے مستقبل کے نتائج کو سامنے رکھے۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے وکیل فاروق نائیک نے دلائل کے آغاز میں کہا کہ سینیٹ انتخابات میں انفرادی ووٹ ہوتا ہے پارٹی کا ووٹ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی آزاد ووٹ ہوتا ہے. جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کیا پیپلز پارٹی سربراہ نے اپنے اراکین کو بتا دیا ہے وہ آزاد ہیں جسے چاہے ووٹ دیں. فاروق نائیک نے جواب دیا یہ پارٹی سربراہ کا کام ہے میرا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا آپ پارٹی سربراہ سے باہر نکل آئیں،جمہوریت میں سیاسی جماعت اہم ہوتی ہے، پارٹی سربراہ. نہیں،آپ قانون کی بات کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے فاروق نائیک سے پوچھا اگر پارلیمنٹ کہہ دے اوپن بیلٹ کے زریعے سینیٹ الیکشن کرائے جائیں تو پھر کیا ہوگا. فاروق نائیک نے جواب دیاسپریم کورٹ کو آئین سے متصادم قانون سازی کو کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل ہے،ماضی میں ایسی عدالتی نظریں موجود ہیں،رشوت، ہارس ٹریڈنگ جیسے دلائل سیاسی ہیں آئینی نہیں،سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔

فاروق نائیک کے دلائل مکمل کرنے کے بعد ن لیگ کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل میں کہاسپریم کورٹ سینیٹ انتخابات کے لیے تاریخی ارتقاء کو سامنے رکھ کر تشریح کرے،ووٹ کی رازداری برقرار رکھنے کی بین الاقوامی قراردادیں موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا جو بات آپ کر رہے ہیں اس کا اطلاق ہم پر لازم نہیں، جو بات آپ کر رہے ہیں وہ سوال ہمارے سامنے ہے ہی نہیں۔

جے یو آئی کے وکیل نے دلائل میں کہا چار یا پانچ ووٹوں کے لیے پورے انتخابی عمل کی رازداری کو ختم نہیں کیا جاسکتا،صدارتی ریفرنس میں سیاسی سوال پوچھا گیا ہے،سپریم کورٹ سیاسی سوال کا جواب لینے کے لیے معاملہ پارلیمنٹ بھیجے۔

سندھ بار کے وکیل صلاح الدین نے دلائل میں کہا سپریم کورٹ طے کرے کیا صدارتی ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال جواب دینے کے قابل ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا ہم یہاں کسی کی نیک نیتی کو نہیں جانچ رہے۔ سندھ بار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ انتہائی احترام کیساتھ ریفرنس کالعدم قرار دیدے،صدارتی ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال خالصتاً سیاسی ہے، موجودہ کیس میں بھی عدالت دانشمندی کا مظاہرہ کرے اور اس سے الگ رہے،موجودہ حکومت نے اپنی سیاسی ذمہ داریاں اور بوجھ عدالت کے کندھوں پر ڈال دیا ہے، 1990 میں بابری مسجد کے معاملے پر بھارتی سپریم کورٹ حکومت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر چکی ہے،سینیٹ انتخابات سے متعلق صدر کا ریفرنس غیرقانونی ہے،حکومت عدلیہ سے کھلواڑ کر رہی ہے عدالت اس ریفرنس کو اٹھا کر باہر پھینک دے، اٹارنی جنرل نے یہ نہیں بتایا کہ قانون کیا ہے بلکہ یہ کہتے رہے کہ قانون کیا ہونا چاہیے،حکمران جماعت کے علاوہ تمام جماعتیں اس کی مخالف ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے تین سوالات ہیں،کیا آرٹیکل 226 کا سینیٹ انتخابات پر اطلاق ہوتا یا نہیں؟کیا متناسب نمائندگی سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے ذریعے ہو سکتی ہے؟کیا آئین کے تحت ہونے والے انتخابات خفیہ ہوتے ہیں؟ سیکرٹ بیلٹ سے متعلق معاملات پارلیمنٹ پر چھوڑے گئے ہیں،اس کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہوتا ہے۔

سندھ بار کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں ایک ترمیم پہلے سے ہی زیر التوا ہے،حکومت نے ریفرنس بھی بھیج دیا اور آرڈیننس بھی جاری کردیا، دو سال پرانی وڈیوز بھی منظرعام پر آئی ہیں،بدعنوانی سیکرٹ بیلٹ سے بڑھتی ہے یا کم ہوتی ہے، اس کا دوسرا پہلو بھی دیکھنا ہوگا. چیف جسٹس نے کہا ہم پارلیمنٹ نہیں اور نہ ہی اس کے دائرہ اختیار کو محدود کر سکتے ہیں۔

سندھ بار کونسل کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے اپنے 17 قیمتی دن لگا کر حکومتی موقف کو سنا،حکومت نے عدالت میں اوپن بیلٹ کو شفافیت سے تشبیہ دی،اٹارنی جنرل نے رائے طلب کرنے کی بجائے اپنی بات سپریم کورٹ پر تھوپنے کی کوشش کی،اے جی عدالت سے رائے دینے کا نہیں بلکہ اوپن بیلٹ سے الیکشن کرانے کی استدعا کرتے رہے،اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئینی انتخابات وہی ہوتے ہیں جس میں مشینری آئین دیتا ہے،اٹارنی جنرل صرف اپنی مطلب کی بات بتا گئے اور حقائق عدالت سے چھپائے،آئین میں مختلف الیکشن کا کہا گیا ہے،عام انتخابات آئینی کمانڈ ہے لیکن طریقہ کار آئین میں نہیں،تاہم عام انتخابات بھی خفیہ ہوتے ہیں،آرٹیکل 226 نہ ہو تب بھی صدر کے الیکشن خفیہ ہی ہوں گے، اٹارنی جنرل کے اپنے دلائل میں تضاد ہے، اسمبلی کا رکن سیاسی جماعت کے بجائے عوام کا نمائندہ ہوتا ہے،خواتین کی مخصوص نشستوں اور اقلیتی نشست میں بیلٹ نہیں ہوتا رازداری بھی نہیں ہو سکتی، بیلٹ اوپن کرنے سے کرپشن ختم ہونے کا تاثر غلط ہے، بطور ووٹر میرے ووٹ کو مکمل رازداری حاصل ہے،برطانیہ میں محکوم لوگوں کے لیے اوپن بیلٹ جبکہ اپنے لیے ووٹ کو خفیہ رکھا ہوا تھا،اوپن بیلٹ کے خطرات کو بھی دیکھنا ہوگا،ہمارا آئین مغربی طرز کا ہے ہمارے آئین میں بھی پارٹی لائن مختلف ہوسکتی ہے،ترقی یافتہ ممالک میں سیاستدان پارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں،ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پر اراکین نے اپنی پارٹی کے برخلاف ووٹ دیا، فرض کریں اگر کوئی جماعت شیطان سے اتحاد کرے تو مجھے اختلاف رائے کا حق حاصل ہے، بھارت میں صدر کے چناؤ کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ متناسب نمائندگی کا اصول متاثر ہوا ہے. عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات بارہ بجے تک ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے