سپریم کورٹ نے ریزرو سپاہیوں کی پنشن دس ہزار کرنے کا فیصلہ ختم کر دیا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ریزرو فوجیوں کی پنشن بڑھانے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے دو سال قبل فیصلہ دیتے ہوئے فوج کے ریٹائرڈ سپاہی کی پنشن بڑھا کر دس ہزار مقرر کی تھی۔
سنہ 2014 میں سپاہی محمد یاسین اور نائیک محمد شبیر نے کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے ذریعے پنشن میں اضافے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
وزارت دفاع کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جہاں چیف جسٹس گلزار احمد نے پنشن بڑھانے کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ اس دوران درخواست گزار سپاہی محمد یاسین پنشن میں اضافہ لیے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور ان کی بیوہ اور بیٹا سپریم کورٹ میں پیش ہوتے رہے۔
انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ محمد یاسین اور ان کی طرح کے سینکڑوں سپاہیوں نے پنجاب رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی اور سنہ 1965 کی جنگ میں شریک ہوئے جن کو بعد ازاں جنرل ایوب خان نے ریزرو قرار دے کر گھر بھیج دیا تاہم سنہ 1971 کی جنگ میں ان ریزرو سپاہیوں کو دوبارہ فوجی خدمات کے لیے طلب کر کے مشرقی پاکستان بھیجا گیا جہاں ان میں سے سینکڑوں جنگی قیدی بھی بنے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ سنہ 1982 میں ان کو 14 روپے کی معمولی پنشن کے ساتھ ریٹائرڈ کر دیا گیا اور فوجی فاؤنڈیشن کے تحت علاج معالجے کی سہولت بھی واپس لے لی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ دو دفعہ فوجی خدمات کے لیے بلا کر ریٹائرڈ کیا گیا اور آخری پنشن 1375 روپے مقرر ہے۔
انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے عدالت میں اپنے دلائل کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے عرصہ قبل کم از کم پنشن دس ہزار روپے مقرر کی تھی جبکہ 75 برس کے عمر رسیدہ ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن 15 ہزار رکھی گئی لیکن ریزرو کے طور پر ریٹائرڈ کیے گئے فوج کے سپاہی کو دس ہزار روپے پنشن بھی نہیں مل رہی۔
خیال رہے جس دوران سپریم کورٹ میں ریزرو سپاہیوں کی پنشن بڑھانے کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کی اپیل زیر التوا تھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی بینکوں کے معمر ملازمین کی کم از کم پنشن دس ہزار روپے کرنے کا فیصلہ دیا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریزرو سپاہیوں کی پنشن بڑھانے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ افراد ریگولر فوج کا حصہ نہیں تھے اس لیے ان کی پنشن نہیں بڑھائی جا سکتی۔

