کشمیر کی وادی نیلم میں احتجاجی دھرنا اگلی کال تک مؤخر، بازار کھل گئے
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع نیلم میں 12 جون سے جاری احتجاجی دھرنا اگلی کال تک موخر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، جبکہ بازار بھی معمول کے مطابق کھل گئے ہیں۔
دوسری جانب راولاکوٹ میں بڑا احتجاج اور دھرنا جاری ہے۔
کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر 9 جون سے ریاست بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری تھی، جس کے دوران وادیٔ نیلم میں مظاہرین نے چک مقام پر ضلع کی واحد مرکزی سڑک بند کر رکھی تھی۔
وادی نیلم میں دھرنا ختم ہونے کے بعد ضلع ہیڈکوارٹر اٹھمقام سمیت دیگر بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ اور ضلع نیلم سے مظفرآباد جانے والی معمول کے مطابق ٹریفک بحال نہیں ہو سکی،شہری نجی گاڑیاں آمد و رفت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نیلم اقبال احسن کے مطابق ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ تمام بازار کھلے ہوئے ہیں اور مرکزی شاہراہ مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بحال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے اپنی مرضی سے دھرنا ختم کیا اور انتظامیہ کی جانب سے نہ تو کوئی مذاکرات کیے گئے اور نہ ہی ان کے مطالبات یا شرائط تسلیم کی گئیں۔
دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رکن راجہ افتخار کا کہناتھا کہ دھرنا حکمتِ عملی کے تحت عارضی طور پر ختم کیا گیا ہے اور کارکنوں کو اگلی کال تک گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔

