جعلی لائسنس بیان: چھ ماہ میں پی آئی اے کو آٹھ ارب کا نقصان
پاکستان کے وزیر ہوا بازی غلام سرور کے پی آئی اے کے پائلٹس کے جعلی لائسنس یافتہ ہونے کے بیان کا نقصان جاری ہے اور حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں قومی ایئر لائن کو آٹھ ارب کا مزید خسارہ ہوا ہے۔
جمعرات کو وزارت ہوا بازی کے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں تحریری جواب کے مطابق چھ ماہ میں فلائٹس آپریشن متاثر ہونے سے پی آئی اے کو آٹھ ارب کا نقصان ہوا۔
وزارت کے مطابق پائلٹس کے لائسنس سے متعلق بیان دینے سے یورپ و امریکہ کے لیے فلائٹ آپریشن معطل ہونے کے باعث 7.9 ارب کا خسارہ ہوا۔
وزارت ہوا بازی نے بتایا ہے کہ برطانیہ اور دیگر چھ ممالک کے لیے فلائٹ آپریشن معطل ہے۔
تحریری بیان کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اب تک 14 پائلٹس کے لائسنس معطل کیے گئے.
یاد رہے کہ گزشتہ برس وزیر ہوابازی کے بیان کے بعد پاکستان میں شہری ہوا بازی کے نگراں ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تحقیقات میں اس کو غلطی قرار دیا تھا.
ایوی ایشن اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر لائسنسنگ نے ملک کی تین ایئرلائنز کو لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا تھا کہ ’(اس حوالے سے قائم ہونے والے) بورڈ آف انویسٹیگیشن کے جواب کے مطابق یہ رائے قائم ہوئی کہ ایئرلائنز نے پائلٹس کا خامیوں والا اور غلط ڈیٹا بورڈ آف انویسٹیگیشن کو فراہم کیا۔ جس کے نتیجے میں سول ایوی ایشن ریکارڈ کے فرانزک آڈٹ کے دوران 262 مشتبہ پائلٹس کی فہرستوں میں متعدد پائلٹس کی غلط نشاندہی کی گئی تھی اور انھیں اس معاملے میں ملوث کیا گیا۔‘

