حامد میر . ایک سویلین جذباتی
سنہ 2014 میں حامد میر کو لگنے والی چھ گولیوں میں سے دو گولیاں اب تک جسم کے اندر ہی ہیں، ان کو نکالنا حامد میر کے لیے شاید اتنا ہی خطرناک ہوگا جتنا ہمارے نظام کے لیے یہ جاننا کہ ان پر قاتلانہ حملہ کس نے کروایا۔ وہ دو گولیاں صرف حامد میر کے نہیں ہمارے پورے نظام کے جسم میں پیوست ہیں اور گاہے بگاہے اس کی ٹیسیں محسوس ہوتی ہیں۔ ان کے نکلنے سے نجانے کیا ہو جائے۔
حیات و موت کے بیچ کی لائن آف کنٹرول سے میر صاحب زندگی کی جانب تو لوٹ آئے ہیں مگر انہیں اب بھی شاید یقین نہیں آ رہا اور وہ آئے دن چٹکی کاٹ کر خود کو زندہ ہونے کا یقین دلاتے رہتے ہیں۔ لگتا ہے میر صاحب ایک نظر نہ آنے والی بھٹکتی روح کی مانند ہماری عدالت، صحافت اور سیاست کی منافقت کا پردہ چاک کر کے دور سے اس کا تماشہ دیکھتے ہیں اور پوری دنیا کو دکھاتے ہیں۔ دراصل 2014 میں حامد میر پر لگائی گئی ’ضرب مومن‘ کے بعد ڈی چوک پر جمہوریت کے جسم میں بھی جو گولیاں پیوست کی گئی تھیں وہ آج بھی ہمیں تکلیف دیتی ہیں۔

مضروب صحافت اور مقتول جمہوریت کے ملزمان کے خلاف فیصلہ کن اور فوری کارروائی نہ ہونے کے باعث جمہوریت اور صحافت کو کورونا مریض والے ایس او پیز کے ساتھ دفنانے کی تیاری مکمل ہے۔ جب ایک حکومت بزدل ہو جائے تو اگلی حکومت شریک جرم ہو جاتی ہے۔ یہ ہماری ماضی کی کمزوریوں اور مصلحتوں کا نتیجہ ہے کہ عدالت، سیاست اور صحافت آج یوں زیر عتاب ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہم تین سال تک سو پیاز کھانے کے بعد اب اگلے دو سال تک سو جوتے کھانے کی تیاری میں ہیں اس امید کے ساتھ کہ ایک بار پھر ’جمہوریت‘ بحال ہو جائے گی- مگر تب تک نئے مجوزہ کالے قانون کے ذریعے میڈیا کا بیڑہ غرق ہو گیا تو اقتدار کا خواب دیکھنے والوں کے لیے بھی بہت دیر ہو چکی ہوگی اور عوام کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہ رہے گا۔ جن کے لیڈر جمہوریت کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گئے یا غدار کہلا کر جلاوطن ہوئے وہ آج پاکستان میں پارلیمنٹ کے اندر ان عہدوں کی خاطر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں جو دفتر، گاڑی اور ڈرائیور کی مراعات سے زیادہ کوئی وقعت و اختیار نہیں رکھتے۔
سینٹ میں ’باپ‘ کی مدد سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ قابو کرنے، استعفوں کو ضد بنانے اور پھر شو کاز جیسی ’کارروائیاں ڈالنے‘ والےعوام کو باور کرا رہے ہیں کہ ان تکنیکی وجوہات کے باعث عوام کو موجودہ ظالمانہ نظام بدلنے کی مطلوبہ سہولت میسر نہیں ہے۔ آنے والے شدید حبس و گرمی کے موسم و ماحول میں ٹھنڈی ہواؤں کی ضمانت اور کیسے ملتی۔ پہلے خان صاحب عوام کو تبدیلی کی ٹرک کی بتی پیچھے لگا کر حکومت میں آئے اور پھر اپوزیشن نے پچھلے تین سال ’تبدیلی کی تبدیلی‘ کا نعرہ لگا کر وہی کام کیا اور اب کہتے ہیں دو سال اور سہی۔
کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ دو سال مزید صبر کا پھل میٹھا ہو گا مگر کیا ضمانت ہے کہ تب تک یہ پھل گل سڑ کر عوام کے کھانے کے قابل بھی رہے گا؟ حامد میر پر قاتلانہ حملے سے شروع ہونے والا گھٹن کا یہ قومی سفر ایک دائرے میں ہی ہے۔ اور آج پھر انصاف کے متلاشی اُس حامد میر کی گھٹن زدہ چیخوں پر آ کر رک گیا ہے۔
ان حالات میں ماضی کی طرح اب بھی صحافیوں کو عوام کی حقیقی آواز بننا پڑے گا۔ صحافیوں کی تنظیم کا میڈیا کے مالکان، سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر چلنا بہت اہم ہے اور اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی کا ہونا بھی ضروری ہے، مگر ان سب چیزوں کے علاوہ عامل صحافیوں کے لیے دو قسم کی درج ذیل حکمت عملی تجویز کی جاتی ہے:
(الف ) تمام رپورٹرز حضرات اپوزیشن جماعتوں کے تمام نمائندوں سے مستقبل میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ان کے اور ان کی پارٹی کےعزم سے متعلق آن کیمرہ سوالات کریں، ان مخصوص سوالات کی تفصیل آگے جا کر بیان ہوگی۔
(ب) صحافیوں کی تنظیمیں اپنی جدو جہد اور اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مخصوص اقدامات کی تیاری کریں۔
جہاں تک پہلی قسم کی حکمت عملی کا تعلق ہے تو اسکی تفصیل درج ذیل سوال ہیں، اپوزیشن جماعتوں سے آن کیمرہ کیے جانے والے مخصوص سوالات جن سے آزادی صحافت سے متعلق ان کی پالیسیوں اور حکمت عملی کی جانچ ہو گی۔
سوال ۱- کیا اپوزیشن میڈیا سے متعلق حکومت کے نئے مجوزہ کالے قانون کی عملی طور پر مخالفت کرے گی؟ کیا اپوزیشن سینیٹ میں اس قانون کو ناکام کروائے گی؟ یا حکومت میں آنے کے بعد اس قانون کو مکمل طور پر ختم کر دے گی؟
سوال ۲- یہ کالا قانون آرڈیننس کے طور آنے کی صورت میں کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت اس کالے قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی؟
سوال ۳- کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت حکومت میں آنے کے بعد سائبر قوانین میں ترمیم کر کے اس کے ناجائز استعمال کا تدارک کرے گی؟
سوال ۴- کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت حکومت میں آنے کے بعد تمام صحافیوں پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے گی؟ ان واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنائے گی؟
سوال ۵ – کیا اپوزیشن رکن ان کی جماعت حکومت میں آنے کے بعد حیات اللہ خان کے قتل، عمر چیمہ پر حملے، سلیم شھزاد کے قتل، حامد میر پر حملے سے متعلق عدالتی کمیشنوں کی رپورٹوں کو منظر عام پر لائے گی؟
سوال ۶ – کیا اپوزیشن حکومت ملنے کے بعد پیمرا کے ادارے کو خود مختار بنائے گی اور اس کے اختیارات کو جمہوری تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے اس میں حکومت کا عمل دخل کم کرے گی؟
سوال ۷ – کیا اپوزیشن حکومت میں آنے کے بعد سرکاری اشتہارات کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی پالیسی ختم کرے گی اور کیسے؟
سوال ۸- کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت اقتدار ملنے صحافیوں کو تحفظ دینے کا ایسا قانون بنائے جس میں تمام ادارے معاونت اور جوابدہی کے پابند ہوں؟
سوال ۹ – کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت حکومت ملنے پر میڈیا پر خفیہ اداروں کے دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی؟
سوال ۱۰ – کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت حکومت ملنے پر سرکاری و عسکری اداروں کی میڈیا کاروبار میں سرمایہ کاری اور کنٹرول کو روکے گی اور اس حوالے سے فوج کے ترجمان دفتر کے دائرہ کار کو ریاستی قانون و ضابطے میں لائے گی؟
سوال ۱۱- کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت حکومت میں آنے کے بعد ملک میں انگلش اور اردو صحافت کے فروغ کے لیے کم از کم سرکاری یونیورسٹیوں کی مالی و تکنیکی مدد کرے گی؟
سوال ۱۲- کیا اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت حکومت میں آنے کے بعد یو ٹیوب یا فیس بک چینلوں کو کروڑوں روپوں کے لائسنس سے مشروط کرے گی؟ ان کی جماعت ڈیجیٹل میڈیا پر آزادی رائے کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کرے گی؟
سوال ۱۳- کیا اقتدار ملنے پر اپوزیش رکن یا ان کی جماعت وزارت اطلاعات کا وجود قائم رکھے گی؟
سوال ۱۴- کیا اقتدار ملنے پر اپوزیشن رکن یا ان کی جماعت مقامی حکومتوں کو با اختیار بنانے کے لیے مقامی ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کو خبر نشر کرنے کی آزادی دے گی اور ان کی مالی معاونت کرے گی؟
اپوزیشن لیڈران اگر واقعی جمہوریت کی بحالی اور عوام کی آزادی رائے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو وہ درج بالا سوالات کے ٹھوس اور واضح جواب دیں گے۔ دوسری صورت میں صحافی حضرات خود اندازہ لگا لیں کہ ہمارے ساتھ یہ سب مل کر کیا کر رہے ہیں۔
اب چلتے ہیں میڈیا کو درپیش معاشی قتل جیسے چیلنجز اور جان کو خطرات کا مقابلہ کرنے واسطے ممکنہ حکمت عملی پر:
۱۔ پی ایف یو جے کے صدر کو اپنی تمام یو جیز اور اراکین صحافیوں کو ایک خط کے ذریعے موجودہ حالات کے حوالے اعتماد میں لیتے ہوئے انہیں ضروری اقدامات کے لیے تیار رہنے کا کہیں۔
۲۔ اپنے صحافتی ضابطہ اخلاق کے حوالے سے تمام صحافیوں کو ان کی پیشہ وارانہ و اخلاقی ذمے داریوں کی یاد دہانی کے لیے ضابطہ اخلاق کی خصوصی ترویج کی جائے۔
۳۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ماضی میں جمہوریت اور صحافتی آزادیوں کے لیے قربانی دینے والے صحافتی ہیروز کی خدمات پر ویڈیوز کا اجرا کیا جائے۔
۴۔ زیر عتاب صحافیوں سے متعلق معلومات پر مشتمل تجویز کردہ ڈیٹا بیس کو عام عوام تک پہنچائے جانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
(۵) ملک بھر میں یو جیز کے نمائندوں کو صحافیوں سے رابطے بڑھانے کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے میں مدد دی جائے۔
(۶) ملک کے تمام پریس کلبوں کو آزادئی صحافت کے اس بحران میں ان کے پیشہ وارانہ کردار کے تقاضوں کی یاد دہانی کرائی جائے۔
(۷) ملک کے تمام اینکر پرسن حضرات کو میڈیا کی صورت حال پر گفتگو و بحث کی حوصلہ افزائی کی جائے، چاہے اس سے مراد پورا پروگرام ہو یا چند سوالات جتنا ممکن ہو سکے۔
(۸) رپورٹرز اور اینکر حضرات اپنے بیروزگار اور زیر عتاب صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کے منفرد طریقے اپنانے ہوں گے، جیسے کہ بازو پر سیاہ پٹی یا کالی شرٹ یا قمیض۔
(۹) سب صحافیوں کو پی ایف یو جے کی طرف سے تمام احتجاجی ریلیوں میں شرکت کے لیے واضح ھدایات جاری کی جائیں۔
(۱۰) پی ایف یو جے کو اپنی تحریک کے عروج پر ملک میں پین ڈاؤن (pen down) یا کیمروں کے شٹر ڈاؤن ھڑتال کے لیے بھی تیاری کرنا ہو گی۔
(۱۱) پی ایف یو جے کو مذکورہ تحریک کے عروج واسطے میڈیا مالکان، کاروباری حلقوں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور ڈیجیٹل میڈیا کو بھی ساتھ لیکر چلنا ہو گا، مگر ذہن میں رہے کہ پہلے اپنی طاقت کو یکجا کرنا اور اس کے لیے فوری طور پر تیاری کرنا اب لازم ہو چکا ہے۔
(۱۲) اس تحریک اور احتجاج میں ہمارے کچھ ساتھی مصلحت، خوف یا مجبوری کے باعث ہمارا ساتھ نہ دے پائیں مگر ایسے صحافی جو لالچ میں آ کر صحافت دشمن قوتوں کا ساتھ دیتے ہوئے ہماری پیٹھ میں چھرا کھونپیں ہمیں تاریخ کے طالب علموں کے سامنے ان کی فہرستیں بنا کر بے نقاب بھی کرنا ہو گا۔
(۱۳) پی ایف یو جے کو ملک بھر سے اپنے صحافی اراکین کو اس بات کے لئیے بھی خبردار کرناہے کہ وقت پڑنے پر حکومت کی رپورٹنگ کرنے والے بیٹ رپورٹرز حکام کی پریس کانفرنسوں کا بائیکاٹ بھی کریںگے، اس میں ان اداروں کی بریفنگ کا ممکنہ بائیکاٹ بھی شامل ہے جو صحافیوں کو دباؤ میں لاتے ہیں۔
(۱۴) پی ایف یو جے اپنے صحافی اراکین کو یہ بھی یاد دلانا ہو گا کہ وہ اپنے خبروں کے ذرائع سول اداروں تک محدود رکھیں اور میڈیا کو درپیش موجودہ خطرات کے پیش نظر وہ کسی ادارے کے مخبر یا آلہ کار نہ بنیں اور ایسے ذرائعے سے اپنے تمام غیر پیشہ وارانہ رابطے منقطع کر دیں۔
مذکورہ مجوزہ سوالات کے واضح جوابات کے حصول کے لیے اور صحافیوں کی احتجاجی حکمت عملی میں سیاسی جماعتوں، وکلا، سول سوسائٹی اور مزدور طبقے کا تعاون ناگزیر ہے، خاص کر غربت اور بیروزگاری میں پستے ہوئے ان عوام کا جن کی آواز بننے سے آج میڈیا کو روکا جا رہا ہے۔ اپوزیش جماعتوں اور ان کے نمائندوں سے مذکورہ سوالات کا جواب آن کیمرہ لے کر ہی ہم انکے وعدے انہیں آئیندہ یاد دلا سکیں گے اور اسی طرح پی ایف یو جے منظم ہو کر ہی موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو صرف صحافیوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو درپیش ہے کیونکہ ایک صحافی معاشرے کی آنکھ کان اور زبان ہوتا ہے جس کے بغیر ہمارا معاشرہ بدستور اندھا بہرہ اور گونگا رہے گا۔
آخر میں اتنا کہوں گا کہ شکر ہے حامد میر ایک سویلین جذباتی ہے زبان کی کاٹ پر اکتفا کرنا جس کی مجبوری ہے، ذرا سوچیے اگر وہ سویلین نہ ہوتا تو پولیس کے کسی سینئیر افسر کے لاپتہ ہونے پر تو ہمارے ہاں احتجاج کی بھی روایت نہیں۔

