نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم کی عدالت میں ہُلڑبازی
اسلام آباد میں قتل کی گئی سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کے کیس میں نامزد مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے ٹرائل کے دوران مقامی عدالت میں ہلڑبازی کی ہے۔
ملزم کی جانب سے نازیبا الفاظ کے استعمال پر جج عطا ربانی نے اس کو کمرہ عدالت سے لی جانے کی ہدایت کی، اس دوران ملزم اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
بدھ کے روز سماعت کے دوران اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں استغاثہ کے گواہان کے بیانات قلمبند کیے جارہے تھے۔ اس دوران پولیس مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت میں لے کر آئی تو ظاہر جعفر کمرہ عدالت میں حمزہ نامی شخص کو پکارتا رہا۔‘
‘حمزہ تم کہاں ہو، میرا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، مجھے بات کرنے کا موقع دیا جائے۔‘
ملزم ظاہر جعفر نے کہا کہ ’میرا اس کیس میں سب کچھ داؤ پر لگا ہوا اور مجھے ایسے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے، اس طرح اگر میرے خلاف فیصلہ آتا ہے تو یہ یرغمال ریاست کی نشانی ہوگی۔‘
گواہوں کے بیانات کی قلمبندی کے دوران مرکزی ملزم انگریزی میں بہ آواز بلند انگریزی میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا رہا۔
مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے اونچی آواز میں کہا کہ ’اس کارروائی کو اس لیے طول دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیارات ہی نہیں ہیں۔‘
ملزم نے یہ بھی کہا کہ ‘میں نے اپنی زندگی میں اتنے نااہل افراد نہیں دیکھے۔ یہ کارروائی جعلی ہے، میں آپ لوگوں کو موقع دے رہا ہوں کہ مجھے پھانسی پر لٹکایا جائے اس کے باوجود اس کیس کو لٹکایا جا رہا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کٹھ پتلیاں ہیں۔‘
ملزم نے کمرہ عدالت میں وقفے وقفے سے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جبکہ اس دوران جج عطا ربانی گواہوں کے بیانات قلمبند کرواتے رہے۔
ملزم کے خاموش نہ ہونے پر جج نے پولیس کو ملزم کو باہر لے جانے کی ہدایت کی اور جب پولیس اہلکار آگے بڑھے تو ملزم نے ان کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کر دی، اہلکار ملزم کو اٹھا کر بخشی خانے لے گئے۔
سماعت کے دوران استغاثہ کے چار گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
ملزم کی جانب سے شور شرابا بند نہ ہونے پر عدالت نے مرکزی ملزم کی والدہ عصمت آدم جی کو کٹہرے میں بلا لیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو سمجھائیں۔
جس پر ملزمہ کے وکیل اسد جمال کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کا علاج کر لیتے ہیں۔‘
جج نے کہا کہ ’آرام سے سمجھانا ہے، ملزم کو توہین عدالت کا نوٹس نہیں دوں گا، جیل ٹرائل شروع کر دوں گا۔‘

