شوگر ملز نے عدالتوں سے سٹے آرڈرز لے رکھے ہیں: عمران خان
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’مہنگی چینی پر شوگر ملز کے خلاف اس لیے کارروائی نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے سٹے آرڈرز لے رکھے ہیں۔‘
جمعے کو اٹک میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں تین شوگر ملز بند کیے جانے کی وجہ سے چینی کی قیمت 140 تک پہنچی ہے۔‘
ان کے مطابق ’گنا پہلے سندھ میں پکتا ہے اور پنجاب میں بعد میں پکتا ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا ’سندھ میں شوگر ملز کی بندش کے بعد یہاں کی ملز نے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چینی کو ذخیرہ کرنے کے خلاف قانون موجود ہے مگر شوگر ملز نے اس کے خلاف بھی سٹے لے رکھا ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شوگر ملز پر کامپٹیشن کمیشن نے 40 ارب کا جرمانہ کیا ہے اس کے خلاف بھی انہوں نے سٹے لیا ہوا ہے۔‘
وزیراعظم نے تقریب میں موجود وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر قانون اور ایڈووکیٹ جنرل کی وساطت سے معاملے کا جائزہ لیں اور سٹے آرڈرز ختم کروائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی کارروائی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ سٹے آرڈ لے لیتے ہیں۔‘
عمران خان نے مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ایسا پوری دنیا میں ہی ہے جبکہ پاکستان میں اس وقت پیٹرول خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سستا ہے۔
انہوں نے عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ کورونا وبا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب لاک ڈاؤن کیے گئے تو معیشتیں رک گئیں، جس کے اثرات اب مہنگائی کی شکل میں آ رہے ہیں۔
عمران خان نے امید کا اظہار کیا کہ سردیوں کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی جس سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہو جائے گی۔

