پاکستان

پاکستان کے سابق متنازع جج ثاقب نثار پھر خبروں میں

نومبر 15, 2021

پاکستان کے سابق متنازع جج ثاقب نثار پھر خبروں میں

پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے مقدمے میں کسی جج سے رابطہ نہیں کیا۔

اس سے قبل صحافی انصار عباسی نے خبر دی تھی کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے ایک بیان حلفی میں ثاقب نثار پر نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن کے دوران جیل میں رکھنے کے لیے ہائیکورٹ کے جج کو فون پر ہدایت دینے کا الزام لگایا ہے۔

بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار 14جولائی 2018 کو ایک 27 رکنی وفد کے ہمراہ گلگت بلتستان آئے تھے، وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ لان میں بیٹھے تھے اور وہ ٹیلی فون پر ہدایات دے رہے تھے۔

رانا شمیم کے مطابق سابق چیف جسٹس کے وفد میں دو بزنس مین بھی شامل تھے جو کہ گلگت بلتستان میں ایک جھیل کے قریب ایک ہوٹل بنانا چاہتے تھے۔

رانا شمیم کے مطابق اس وفد میں شامل تمام افراد کا خرچہ انھوں نے اپنی جیب سے ادا کیا تھا۔

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک روز وہ لان میں اپنی مرحومہ اہلیہ کے ہمراہ میاں ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ اس وقت کے چیف جسٹس پریشان بیٹھے تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے اور انھیں ہدایات دے رہے تھے کہ فلاں جج کے پاس جاؤ۔

رانا شمیم کے بقول پاکستان کے سابق چیف جسٹس کہہ رہے تھے کہ اس جج سے میری بات کرواؤ اور اگر بات نہ ہو سکے تو ہائی کورٹ کے اس جج کو میرا پیغام دے دیں کہ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے