عدالت کی آزادی کو مشکوک بنانا برداشت نہیں: ہائیکورٹ
نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق گلگت بلتستان کورٹ کے سابق چیف جج کے بیان حلفی پر مشتمل خبر کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے صحافی انصار عباسی اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے ہیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
پیر کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے خبر دینے والے صحافی کو فوری طور عدالت طلب کر کے کیس لگایا گیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ انھیں عدالت کے ہر جج پر فخر ہے اور اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ کوئی عدالت کی آزادی کو مشکوک بنائے تو اس معاملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سماعت کے بعد چیف جسٹس کی طرف سے جو حکم نامہ جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی بیان حلفی عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔
ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ جب معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے تو اس طرح کی خبریں شائع کرنا نہ صرف کیسز پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے بلکہ یہ توہین عدالت کی بدترین مثال ہے۔
عدالت نے صحافی انصار عباسی، جنگ اور جیو گروپ کی انتظامیہ اور سابق جج کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

