فوج نے دفاعی سرگومیوں کے لیے لی زمین پر کاروبار شروع کر دیا: سپریم کورٹ
کراچی کی ملٹری لینڈ پر کمرشل سرگرمیوں پر سپریم کورٹ کے ججز نے برہمی ظاہر کی ہے۔
بدھ کو عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں طلب کیے جانے پر ڈائریکٹر ملٹری لینڈ پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈی ایچ اے فیز ون میں کیا بنارہے ہیں آپ لوگ ؟ کوئی بلڈنگ بن رہی ہے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگوں کا طریقہ یہی ہے لمبی دیوار بنادو پھر اندر کیا ہوتا رہے کچھ پتا نہیں چلتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیصل کنٹومنٹ میں کیا ہو رہا ہے؟ کمرشل پلازہ بنادیا، شادی ہالز بنا دیے۔ سی او ڈی میں شادی ہالز بھی چل رہے ہیں سنیما بھی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دفاعی اداروں کا یہ کام نہیں، منافع بخش کام شروع کر دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں، سنیما چلانا یہ کام تو نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ نیوی والے بھی یہی کررہے ہیں، گزری میں ہائوسنگ سوسائٹی بنا دی۔ اسٹریٹجک بنیادوں پر لی گئی زمینوں پر کمرشل سرگرمیاں کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کل مسرور بیس پر بھی سوسائٹی بنا دیں گے۔ ملیر کینٹ بھی بانٹ دیا باقی بھی بانٹ دیں گے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ جیکب لائن میں سپریم کورٹ نے میکرو بند کروایا تھا وہ زمین واپس کی؟
عدالت کو شہری تنظیم کے نمائندے نے بتایا کل ملینئم مال کے سامنے کمرشل دیوار بنا دی گئی ہے، بینک بھی بنا دیا، نیوپلیکس کے ساتھ ایک دیوار ہے جہاں کمرشل سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈائریکٹر صاحب آپ نوٹ کریں اور کل رپورٹ لے آئیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل صاحب یہ تو مکمل کولیپس ہے، کنٹونمنٹ لینڈ کا معاملہ تو بہت خراب ہوگیا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے تحریری حکمنامے میں لکھوا یا کہ نیوی، آرمی، ائیر فورس تیزی سے کمرشل سرگرمیاں کر رہے ہیں. ڈی ایچ ایز، کنٹونمنٹ بورڈز میں تیزی سے ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں. دفاعی اداروں اور کنٹونمنٹ بورڈز کی یہ سرگرمیاں خلاف آئین ہیں.
عدالت نے کہا کہ دفاعی اراضی پر کمرشل کاروبار خلاف آئین اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے. دفاعی اراضی کا مقصد تبدیل نہیں کیا جا سکتا.
عدالت نے سیکرٹری دفاع، اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کر دیے.
تمام کنٹونمنٹ بورڈز کے چیف ایگزیکٹو افسران کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی گئی.

